چین میں شادی پر ہوشربا اخراجات

سیسیلیا اور ییی من ستمبر میں شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسیسیلیا اور ییی من ستمبر میں شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں

سیسیلیا اور ییی من کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی شادی پر تیس ہزار امریکی ڈالر یعنی تقریباً پچیس لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ کے اخراجات ہوں گے تو وہ سکتے میں آ گئے۔

چین میں ہر سال کم و بیش دس لاکھ جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں اور ان شادیوں پر کئی ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

سیسیلیا اور ییی من کی گزشتہ فروری میں منگنی ہوئی تھی اور وہ شنگھائی میں ستمبر میں شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے اس یادگار دن پر اپنی ساری جمع پونچی لگا رہے ہیں جبکہ وہ شادی کے بعد ماریشس کے جزیرے پر ہنی مون منائیں گے۔

ییی من نے اپنی شادی کے لیے چار سال پہلے سے بچت شروع کردی تھی جبکہ وہ گریجویشن کرنے کے بعد سے ہی ملازمت کر رہے ہیں۔

سیسیلیا نے کہا ’ہم فروری میں شادی کی انگوٹھی لینے ساتھ گئے تھے۔ یہ ایک ہیرے کی انگوٹھی ہے جو میرے منگیتر نے ساڑھے تین ہزار ڈالر میں خریدی ہے۔ یہ چین میں انگوٹھی کی اوسط قیمت ہے۔‘

لارنس لو چین میں معاشرتی تجزیہ کار ہیں جو میڈیا میں اکثر معاشرتی پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’دس سے پندرہ سال پہلے اگر آپ لوگوں سے پوچھتے تو وہ کہتے کہ ہیرے اوزاروں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن اب چین ہیروں کی ایک بڑی منڈی بن چکا ہے اور خاص طور پر شادی کی انگوٹھیوں میں ان کا استعمال بہت زیادہ ہے۔‘

یہ ایک ہیرے کی انگوٹھی ہے جو میرے منگیتر نے ساڑھے تین ہزار ڈالر میں خریدی ہے: سیسیلیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ ایک ہیرے کی انگوٹھی ہے جو میرے منگیتر نے ساڑھے تین ہزار ڈالر میں خریدی ہے: سیسیلیا

انگوٹھی تو شادی پر اٹھنے والے اخراجات کا آغاز ہے۔ تصاویر، لباس، اور سجاوٹ بھی شادی کی تقریبات کا حصہ ہوتی ہیں جن کے زیادہ تر اخراجات کی ذمہ داری دولہا کے والدین پر ہوتی ہے۔

شادی میں سب سے بڑا خرچہ ضیافت ہے۔ سیسیلیا اور ییی من اپنی شادی پر دو سو مہمانوں کو مدعو کریں گے۔ اس ضیافت پر لگ بھگ بارہ ہزار ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

سیسیلیا کا کہنا ہے ’اچھا ریستوران تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کھانا اچھا ہو، سب کچھ اچھا لگے اور ہمارے بجٹ سے باہر بھی نہ جائے۔‘

لارنس لو کہتے ہیں کہ لڑکا اور لڑکی کی شادی ان کے والدین کے لیے بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ ان کے بقول جوڑے کے والدین اپنے تمام دوستوں اور کاروباری احباب کو بھی مدعو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ شادی کی تقریب اس خاندان کا ایک طرح سے عزت کا معاملہ ہوتا ہے۔

چین میں فنانشل پلاننگ سٹینڈرڈ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر فینگ لوئی کا کہنا ہے ’اپنی ساکھ کی نمائش کرنا چین میں بہت اہم ہو چکا ہے۔ مالی طور پر یہ ایک احمقانہ سوچ ہے کہ آپ اپنی ساری جمع پونچی ایک ہی دن خرچ کر ڈالیں ۔۔۔ آپ اس سے مکان خرید سکتے ہیں، یا انشورنس کروا سکتے ہیں۔‘

چین میں شادی کا معاملہ ایک صنعت بن چکا ہے اور ان شادیوں میں سالانہ اسّی ارب ڈالر اخراجات آتے ہیں جبکہ مڈل کلاس ان شادیوں کی رسومات اور تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی اور اس میں کمی کا کوئی رجحان نظر نہیں آ رہا۔