’انرش بریوک شہرت کا بھوکا ہے‘

،تصویر کا ذریعہb
ناروے میں اندرونِ ملک انٹیلیجنس کے ذمہ دار ادارے کی سربراہ نے کہا ہے کہ چھہتر افراد کی ہلاکت کے ملزم انرش بریوک پاگل نہیں بلکہ شہرت کا بھوکا ہے۔
جین کرسچیئنسن کا کہنا ہے کے انرش بریوک ایک مکار اور بدصفت انسان ہے اور اس کے پاگل پن سے متعلق اس کے وکیل کا دعویٰ غلط ہے۔
اس سے پہلے انرش بریوک کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ان کا مؤکل خبطی ہے۔
جین کرسچیئنسن نے انرش بریوک کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا کہ دو اور گروہ بھی ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ بات ثابت ہو کے ان کے برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں کے ساتھ روابط ہوں۔
مسٹر بریوک نے اپنی ایک تحریر میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسے گروہوں کے ساتھ گزشتہ نو سال سے رابطے میں ہیں۔
تاہم ناروے کے خفیہ ادارے کی سربراہ کا کہنا ہے کہ مسٹر انرش بریوک نے اوسلو میں بم دھماکے اور قریبی جزیزے پر نوجوانوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی خود ہی کی تھی۔
دوسری طرف پولیس نے جمعے کے روز ہلاک ہونے والے افراد کے ناموں کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک ان افراد کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں تین ایسے افراد ہیں جو اوسلو میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہوئے جبکہ ایک تئیس سالہ نوجوان جو جزیرے میں انرش بریوک کی گولیوں کا نشانہ بنا۔
اس سے قبل ناروے کے پراسیکیوٹر کرسچیان ہالٹو نے کہا تھا کہ پولیس انرش بیرنگ بریوک پر انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتیس سالہ ملزم انرش بیرنگ پر ناروے میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہے اور ناروے کے موجودہ قانون کے تحت انہیں زیادہ سے زیادہ اکیس سال کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ناروے کے پراسیکیوٹر کرسچیان ہالٹو نے اخبار آفٹن پوسٹن کو بتایا کہ اگر ملزم انرش بیرنگ کو مجرم قراد دے دیا جاتا ہے تو انہیں تیس برس کی سزا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ناروے کے وزیرِ انصاف نے اس واقعہ میں پولیس کی شاندار کارکردگی کی بہت تعریف کی۔
ناروے کے وزیرِ انصاف نٹ سٹاربرگٹ نے اوسلو پولیس کے سربراہ ویننگ سپونہیم ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اوسلو اور دیگر قصبوں میں موجود پولیس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
مسٹر سٹاربرگٹ کے مطابق یہ بات بہت اہم ہے کہ اس واقعہ کی تحقیق کھلے ذہن سے کی جائے لیکن ہر چیز کے لیے ایک وقت ہوتا ہے۔
پراسیکیوٹر کرسچیان ہالٹو نے اخبار آفٹن پوسٹن کو بتایا کہ ملزم کا جرم انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ناروے کی پولیس کے ترجمان سٹرلا ہینریکبوک نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف قانون کو پڑھا ہے تاہم فردِ جرم میں دیگر الزامات ابھی شامل نہیں کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق ناروے کی پولیس منگل کو متاثرہ افراد کے نام شائع کرنے والی ہے۔ اس سے پہلے پیر کو مرنے والے افراد کی یاد میں ناروے کے شہروں اور قصبوں میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔
ایک اندازے کے مطابق ناروے میں دو لاکھ پچاس ہزار افراد نے ان تقاریب میں شرکت کی۔
اس سے قبل اتوار کو بھی ناروے کے بیشتر شہروں میں ہلاک شدگان کی یاد میں تعزیتی اور دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
ناروے کے وزیرِاعظم جینز سٹولن برگ نے اوسلو میں تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تقریب میں شرکت کر کے آپ جمہوریت کے لیے ’ہاں‘ کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے ملزم انرش بیرنگ نے پیر کو اوسلو کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد دونوں حملوں کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے دہشت گردی کے الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے بقول ملزم نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں یٹویا کے جزیرے میں فائرنگ کر کے اڑسٹھ افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جن میں زیادہ تر نوجوان تھے۔







