’امریکہ نے ہلاکت کے جھوٹے پیغامات بھیجے‘

طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے فون سے بھیجے جانے والے ایک بیان میں ملا عمر کی موت کا اعلان کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے فون سے بھیجے جانے والے ایک بیان میں ملا عمر کی موت کا اعلان کیا گیا تھا

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان طالبان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے ان کے موبائل فون ہیک کر کے ان سے طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے جعلی پیغامات بھیجے۔

افغان طالبان کے ایک ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’امریکیوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمارے موبائل فون ہیک کیے اور ان سے پیغامات بھیجے۔‘

<link type="page"><caption> ملا عمر کی ہلاکت کی تردید</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/05/110523_mullah_omer_death_deny_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

واضح رہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے مئی میں طالبان سربراہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر ایک افغان ٹیلی ویژن سمیت متعدد نشریاتی اداروں نے نشر کی تھی۔

امریکی اور پاکستانی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔

ملا عمر جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ طالبان کی تحریک کی رہنمائی کر رہے ہیں کو وسیع پیمانے پر تلاش کیا گیا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے فون سے بھیجے جانے والے ایک بیان میں ملا عمر کی موت کا اعلان کیا گیا تھا۔

طالبان ترجمان کی طرف سے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ موبائل فون سروس مہیا کرنے والے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایک دوسرے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے ٹیلی فون ہیک کیے گئے تھے۔

’یہ پیغامات جعلی تھی، مغرب والوں نے ہمارے موبائل فون ہیک کیے اور ان سے ہر کسی کو پیغامات بھیجے گئے، وہ افغان عوام کو دھوکہ دیناچاہتے تھے جو غلط ہے، ملا عمر زندہ ہیں اور ہلاک نہیں ہوئے ہیں۔‘