حقانی نیٹ ورک: پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا تُرپ کا پتّہ

جلال الدین حقانی
،تصویر کا کیپشنامریکی پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے یا ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغان مسئلے کے سیاسی حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے چین پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بین الاقوامی برادری کو یہ باور کروانے میں، بعض ذرائع کے مطابق کسی حد تک کامیاب ہو گئی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان کو شامل کرنے سے افغان مزاحمتی تحریک کے اہم جزو سمجھے جانے والے حقانی نیٹ ورک کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ کامیابی کابل میں برطانوی سفیر ولیم پیٹی کے اس بیان میں دکھائی دے رہی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کو مذکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صلح کی کوششوں کے لیے پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

<link type="page"><caption> طالبان حقیقت پسند ہیں، پاکستان اور بھارت دونوں سے اچھے تعلقات رکھیں گے: رحیم اللہ یوسف زئی کی گفتگو سنئیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110607_india_afghan_rahimullaha_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے انخلاء کی حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے قریب ہے، پاکستان کا افعانستان کے معاملات میں ٹھوس کردار لازمی ہے۔

<link type="page"><caption> پاکستان اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ بھارت افغانستان میں پانچواں بڑا امدادی ملک ہے: ڈاکٹر نجم عباس کا انٹرویو سنئیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110607_tw_najam_abbas_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ مختلف واسطوں سے افغان مزاحمت کاروں کے ساتھ جو رابطے قائم کر رہا ہے اس میں پاکستان کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ اس کی ایک وجہ امریکی قیادت کی نظروں میں پاکستانی اداروں کا ناقابل اعتبار اور کسی حد تک غیر متعلق ہونا بتایا جاتا ہے۔

امریکی رابطہ کاروں نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران افغانستان کے طالبان کے ساتھ جو رابطے استوار کیے ہیں ان سے ملنے والی اطلاعات کی بنا پر امریکی اور افغان حکام کا پہلے خیال تھا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات یا رابطوں میں زیادہ مؤثر نہیں ہے کیونکہ افغان طالبان اب پاکستان کے زیراثر نہیں ہیں۔

لیکن افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں اسلام آباد میں طالبان کے سفیر ملا عبدالضعیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ناقابلِ بھروسہ ملک ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کی سابق پوزیشن برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں کئی غلطیاں کی ہیں اور پاکستان کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ افغانستان کا مستقبل طے کرے۔

پاکستانی قومی سلامتی سے متعلق ایک سینیئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سوچ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کچھ تبدیلی آئی ہے۔ ’میرا خیال ہے کہ امریکیوں اور خود حامد کرزئی کی حکومت کو بھی یہ بات اب سمجھ میں آ رہی ہے کہ افغانستان میں سرگرم ایک اہم مزاحمتی گروہ حقانی نیٹ ورک کو بھی مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔ اور ایسا کرنے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر رابطہ کار کوئی نہیں ہو سکتا‘۔

امریکی حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ افغانستان کے علاقے خوست سے تعلق رکھنے والے اہم طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی اداروں نے پناہ دے رکھی ہے یا کم سے کم اتنا ضرور ہے کہ پاکستان اس کمانڈر کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

پاکستانی حکام اس الزام کی تردیدکرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ شمالی وزیرستان میں کسی بھی فوجی کارروائی کے امکان کو یہ کہ کر مسترد کرتے ہیں کہ اس قبائلی علاقے میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب نہیں کہ وہاں فوجی کارروائی کی ضرورت پڑے۔

پاکستانی اور امریکی پالیسی سازوں کے درمیان حقانی نیٹ ورک کے معاملے پر جاری یہ آنکھ مچولی پاکستانی حکام کے مطابق اب خاتمے کے قریب ہے کیونکہ پاکستان کا یہ موقف اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ بلا تخصیص رابطے کیے جائیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسے وقت میں جب ماحول’بات چیت‘ کے لیے سازگار ہو رہا ہے، شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی افغان مسئلے کے حل کے لیے تیار ہونے والی مذاکرات کی یہ ہانڈی بیچ چوراہے میں پھوڑنے کے مترادف ہوگی۔