جنگی جرائم کے ملزم راتکو ملادچ گرفتار

جنرل ملادچ کو ہیگ میں جہاں جنگی جرائم کی عدالت واقع ہے، بھیجنے کے لیے ضروری کارروائی کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنجنرل ملادچ کو ہیگ میں جہاں جنگی جرائم کی عدالت واقع ہے، بھیجنے کے لیے ضروری کارروائی کی جا رہی ہے

بوسنیا کی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کے الزامات میں اقوامِ متحدہ کے وکیلوں کو گزشتہ دس برس سے مطلوب راتکو ملادچ کو سربیا سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سربیا کے صدر بورس تادچ نے ایک پریس کانفرنس میں سابق بوسنیائی سرب آرمی چیف کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

جنرل ملادچ پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ انیس سو پچانوے میں سربرینکا میں سات ہزار پانچ سو مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتلِ عام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں رادوان کرادچ کی گرفتاری کے بعد سے بوسنیا میں جنگی جرائم کے سب سے اہم ملزم راتکو ملادچ فرار تھے۔

صدر تادچ نے کہا کہ جنرل ملادچ کو ہیگ میں بھیجنے کے لیے جہاں جنگی جرائم کی عدالت واقع ہے، ضروری کارروائی کی جا رہی ہے۔

صدر تادچ نے کہا کہ ملادچ کی حراست سے سربرنیتسا کی تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا ہے اور اس حراست سے ملک اور خطے میں مفاہمت کا عمل قریب تر ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس گرفتاری سے ان کے ملک کے یورپی یونین میں جانے کا دروازہ بھی کھل گیا ہے۔

ادھر نیٹو کے سربراہ آندرس راسموسین نے ملادچ کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’بالآخر اس سے انصاف کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔‘

برطانیہ کے وزیرِ دفاع لیئم فوکس نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ تاریخ کا ایک ایک ناخوش باب بند کرنے کا موقع سربیا کے لوگوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ گو ملادچ کی گرفتاری میں پندرہ برس لگے لیکن بالآخر وہ لوگ جنھوں نے تکالیف اٹھائیں ان کے لیے یہ امید کی کرن روشن ہوگئی ہے کہ ملادچ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

سویڈن کے وزیرِ خارجہ کارل بلٹ کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے سربیا کے یورپی یونین میں داخلے کے امکانات روشن تر ہیں۔