قوم پرست جماعتوں کی پذیرائی

فن لینڈ میں ووٹنگ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنٹرو فِنز کی کامیابی لوگوں کی ان تین جماعتوں سے مایوسی کا مظہر ہے جو کئی دہائیوں سے حکومت میں تھیں: مبصرین

فن لینڈ کے انتخاب میں قوم پرست اور امیگریشن کی مخالف رجعت پسند جماعت نیشنل کوالیشن پارٹی(این سی پی) پہلی بار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

این سی پی پہلی بار فن لینڈ کی پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے لیکن انہیں حکومت بنانے کے لیے کسی دوسری جماعت کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

اس انتخاب میں مبصرین کے مطابق ’حیران کن‘ طور پر ایک اور قوم پرست اور امیگریشن کی مخالف جماعت ’ٹرو فنز‘ تیسرے نمبر پر آئی ہے۔ اس جماعت نے تمام اندازوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

’ٹرو فِنز‘ نے ’این سی پی‘ اور سوشل ڈیموکریٹ کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ یورپ کے مختلف ممالک میں اقتصادی بحران کے دوران تجویز کیے گئے منصوبوں میں سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے پرتگال کے لیے امدادی پیکج میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ٹرو فنز اس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔

فن لینڈ کی وہ حکومت جو اس طرح کے امدادی منصوبوں کے حق میں نہیں وہ انہیں بالکل ویٹو بھی کر سکتی ہے۔ یورو زون کے کئی دوسرے ممالک کے بر عکس فن لینڈ میں پارلیمان کو ایسے منصوبوں پر ووٹنگ کا حق حاصل ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کی پارلیمان میں یورپی یونین کے مخالفین میں اضافے سے مزید امدادی منصوبے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

فن لینڈ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد قدامت پسند جماعت این سی پی کا ہی مخلوط حکومت بنانے کا امکان ہے۔ امیگریشن کی مخالف ٹروُ فِنز نے دو سو ارکان کی پارلیمان میں انتالیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس سے قبل سینٹر پارٹی مخلوط حکومت چلا رہی تھی۔ وہ اس بار صرف پینتیس نشستیں حاصل کر سکی۔

ٹرو فِنز کے اچھے نتیجے کا مطلب یہ ہوا کہ یورپی یونین کی مخالف اس جماعت کو کم سے کم نئی حکومت کے قیام کے لیے ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔

اس کے بر عکس این سی پی کے ایک رہنما نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ فن لینڈ اب یورو زون کے کے لیے مشکلات کھڑی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے بعد تمام جماعتیں مل کر حکمت عملی تیار کریں گی۔

فن لینڈ میں ٹیمپیئر یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق انتخاب کا نتیجہ حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرو فنز پارٹی تمام انتخابی جائزوں اور اندازوں کے بر عکس اتنے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ انہوں نے اس کامیابی کو تاریخی قرار دیا۔ دو ہزار سات کے انتخاب میں ٹرو فنز نے چار فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

مبصرین کے مطابق ٹرو فِنز کی کامیابی ووٹروں کی ان تین جماعتوں سے مایوسی کا مظہر ہے جو کئی دہائیوں سے حکومت میں تھیں۔