یہودیوں کا قتل، عباس کی مذمت

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے غربِ اردن میں ایک ہی خاندان کے پانچ یہودی آباد کاروں کے قتل کی شدت سے مذمت کی ہے۔
محمود عباس نے کہا کہ جمعہ کو ہونے والی قتل کی یہ واردات ’غیر اخلاقی اور غیر انسانی‘ ہے۔
اسرائیل کو شبہہ ہے کہ یہودی آباد کاروں کے قتل میں فلسطینی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔
اس واقعے کے بعد سے غربِ اردن میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور کچھ یہودی آباد کاروں نے انتقام کے طور پر فلسطینیوں کی گاڑیوں اور گھروں پر حملے کیے ہیں۔
اتوار کو یروشلم میں ہلاک شدگان کے جنازے میں ہزاروں اسرائیلیوں نے شرکت کی۔
اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور قاتلوں کو پکڑنے کی غرض سے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔
اتوار کو کچھ یہودی آباد کاروں نے فلسطینی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا اور انتقاماً فلسطینوں کے کچھ گھروں پر حملہ کیا۔خدشہ ہے کہ کشدیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں اسرائیل آرمی ریڈیو نے کہا کہ کوئی انسان اس طرح کے عمل کا ارتکاب نہیں کر سکتا اور یہ کہ قاتل قابلِ نفرت ہیں اور جو انھوں نے کیا ہے اس کا اخلاقی جواز ہے نہ انسانی جواز
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی یہودی آباد کاروں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے لیکن محمود عباس نے اس سے انکار کیا ہے۔
غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں تقریباً پانچ لاکھ آباد کار مقبوضہ فلسطینی زمین پر رہتے ہیں۔ ان کی بستیوں کو عالمی قانون ناجائز قرار دیا گیا ہے گو اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔







