مصرکی معیشت پر کیا اثر پڑے گا

،تصویر کا ذریعہ Reuters
ابھی تک دیکھنے سے ایسا لگتا تھا جیسے اقتصادی ترقی میں مصر ایک ماڈل کی طرح ہو جس کی معیشت عالمی کساد بازاری کے دوران بھی ثابت قدم رہی۔
دو ہزار نو میں اس کی معاشی ترقی چار اعشاریہ سات فیصد تھی جبکہ گزشتہ برس یہ پانچ فیصد رہی ہے اور اس برس مجموعی داخلی پیداوار بھی تقریبا چھ فیصد تک رہنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔
دولت کے ہونے کے بہت سے ثبوت بھی موجود ہیں۔ جدید طرز کی رہائشی اور کاروباری عمارتیں بنتی رہی ہیں اور متوسط طبقے میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے۔
ملک نے سنہ انیس سو نوے میں بینکنگ بحران کے بعد جو فری مارکیٹ معیشت اور اصلاحات متعارف کرائی تھیں اس سے عوام کے ایک بڑے طبقے کو فائدہ پہنچا اور سرمایہ کاروں کی ہمت افزائی بھی ہوئی۔
لیکن اس وقت کے مقبول ترین حکومت مخالف احتجاج نے مصر کی اقتصادیات میں پائی جانے والی خامیوں کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔
بہت سے شدید نوعیت کے مسائل جو ایک زمانے سے پنپتے رہے اور عالمی سطح پر انہیں تسلیم نہیں کیا گیا، وہ اچانک پھوٹ پڑے ہیں۔ انفرادی اور سرکاری سطح پر قرضوں میں اضافہ، کھانے کی اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتیں اور بڑھتی بے روزگاری مشرق وسطیٰ کی ایک کامیاب معیشت کی کہانی کو تار تار کرنے پر آمادہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
مجموعی شرح ترقی کے مقابلے میں مصر کا خسارہ تقریباً آٹھ فیصد ہے اور کھانے کی اشیاء کی افراط زر کی شرح سترہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات غیر سرکاری سطح پر بے روزگاری کی شرح تقریباً پچیس فیصد تک بتاتے ہیں۔
عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ملک کی تقریباً چالیس فیصد آبادی خط غربت سے بھی نیچے ہے۔ یہ لوگ سرکار کے رعایتی کھانے، ایندھن اور دیگر اشیاء پر منحصر رہتے ہیں۔ اس برس اس کے لیے تقریباً ساڑھے سترہ ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کی ترقی کا استحکام اور اس کے خرچ کا دار و مدار زیادہ تر بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منحصر ہے جو بڑی تعداد میں سیاح کے روپ میں آتے ہیں یا پھر وہ کمپنیاں جو حکمت عملی کے اعتبار بہت ہی اہم سوئز کینال کے ذریعے اپنے مال بردار بحری جہاز بھیجتی ہیں۔
موجودہ حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر بحران سے بچنے کے لیے بیشتر بیرونی کمپنیوں نے بچاؤ کی تدابیر اپنائی ہیں۔ ادھر اس خدشے کے پیش نظر کہ اس بحران سے تیل کی آمد و رفت متاثر ہوگی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ائر لائنز اور سیاحتی کمپنیوں میں شیئرز گرنے لگے ہیں اور سیاحوں کو یا تو ملک چھوڑ کر جانے کے لیے کہا جا رہا ہے یا پھر اہم شہروں میں جانے سے باز رہنے کو کہا جا رہا ہے۔
دو ہزار نو میں شعبہ سیاحت سے ساڑھے گیارہ کروڑ ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی کمائی ہوئی تھی۔ اگرچہ دو ہزار دس کے حتمی نتائج نہیں آئے ہیں لیکن سال کے پہلے نصف میں مصر جانے والوں میں تقریباً اکیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
مصر میں تقریباً بارہ فیصد محنت کش لوگ شعبہ سیاحت سے جڑے ہیں اور اکتوبر سے مئی تک کے درمیان سیاحت کے لیے سب سے اہم وقت ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سنہ انیس سو ستانوے میں لگزر میں اٹھاون سیاحوں کے قتل کے بعد سے آنے والوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ گیارہ ستمبر کو امریکہ کے ٹوئن ٹاورز پر حملے اور دو ہزار چار اور چھ میں سینائی میں حملے کے بعد سے بھی سیاحوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مجموعی سطح پر اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ سنہ دو ہزار میں تقریباً پچپن لاکھ لوگ مصر گئے تھے جس سے سوا چار ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی آمدنی ہوئی تھی۔
مصر کے موجودہ بحران سے ایک بات تو صاف ہے کہ عالمی معیشت باہم مربوط ہے لیکن یہاں اس کا واضح ثبوت سوئز کنال کے روپ میں ہی دکھتا ہے۔
سرمایہ کاروں اور بیرونی کمپنیوں میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ کہیں اس سے سوئز کنال کو تو خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ ان مظاہروں کا ایک اہم مرکز سوئز شہر بھی رہا ہے۔
مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی طرف سے مستقل یہ بات دہرانے کے باوجود کہ سوئز کنال میں آمد و رفت متاثر نہیں ہوگی، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کا تقریبا ایک فیصد تیل ٹینکرز یا پائپ لائن سے نہر سوئز سے ہی گزرتا ہے۔ اس نہر سے ہر برس تقریباً پینتیس ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں اور دنیا میں مال بردار جہازوں کی آمد ورفت کے لیے یہ سب سے اہم راستوں میں ایک ہے۔
بی این پی کے ٹام بینٹز کہتے ہیں کہ '' سپلائی کے حوالے سے پر اب کچھ پریشانی ہے۔ ان کے مطابق نہر سوئز میں کسی بھی طرح کی رخنہ اندازی سے امریکہ سے زیادہ یوروپ کو پریشانی ہوگي۔
تیل اور سیاحت کے بعد سوئز کینال مصر کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس ماہ حکام نے سوئز کنال سے دو ہزار دس میں حاصل ہونے والے محصولات پونے پانچ ارب امریکی ڈالر بتایا ہے۔
اگرچہ مصری حکام اس بات پر مصر رہے ہیں کہ وہ سوئز کینال میں کسی بھی طرح کی رخنہ اندازی کی کوششوں سے سختی سے نمٹیں گے۔
ڈنمارک کی شپنگ اور تیل کمپنی اے پی مولیر میئرزک کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے ان کی تجارتی اور آپریشنل سروسز متاثر ہوئی ہیں۔
اس کمپنی کے کینال میں پچپن فیصد کنٹینرو ہیں لیکن کپمنی کے ایک ترجمان نے موجودہ صورت حال سے ہونے والے نقصانات کے متعلق قیاس آرائی کرنے سے انکار کر دیا۔
اس موجودہ صورت حال کے اثرات سے پنپنے والے ایک اس امکان پر بھی غور ہورہا ہے کہ کہیں اس سے عالمی سطح پر ایسی تبدیلیاں تو رونما نہیں ہوں گی جس سے مزيد بحران جنم لیں یا پھر جن سے نقصانات کو درست کیا جا سکے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف، جس نے دو ہزار آٹھ میں مصر میں تقریباً تئیس لاکھ لوگوں کو بے روزگار بتایا تھا، کا کہنا ہے کہ دو ہزار بیس تک یہ تعداد ستّر لاکھ سے بھی زیادہ ہو جائے گي۔
ادارے کے مطابق برھتی ہوئی آبادی سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہر برس شرح ترقی دس فیصد تک رہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب اس میں بیرونی ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کی جائے۔
لیکن موجودہ صورت حال میں ایسی سرمایہ کاری کی رک سی جائے گي۔







