کل کا ہپی آج کا مبلغ

- مصنف, نادین غوری
- عہدہ, دیو بند انڈیا
چالیس سال قبل ہپیوں کے راستے پر چلتے ہوئے جنوبی ایشیاء پہنچنے والے جان بٹ اب بھی اسی علاقے میں رہ رہے ہیں اور پیار اور امن کا پیغام پھیلا رہے لیکن اب ایک ہپی کی طرح نہیں بلکہ ایک اسلامی مبلغ کی طرح سے۔
بھارت کی ایک ناہموار سڑک پر جب ہماری گاڑی نے ایک موڑ کاٹا تو ہمارے سامنے سیفد سنگ مرر کے مینار چمکنے لگے۔ میرے ہم سفر جان محمد بٹ اپنی خوشی کو دبا نہ سکا۔
خوشی سے انھوں نے میناروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کیا تم انھیں دیکھ رہے ہو یہ اسلامی تعیلمات کے لیے اوکسفورڈ کی طرح ہیں۔ میرے نذیک یہ مینار اور گنبد اوکسفورڈ کے مخروطی برجوں کی طرح ہیں۔
تیس سال پہلے میں یہاں آیا تھا لیکن آج بھی مجھے یہاں آ کر وہی مسرت مل رہی ہے۔ یہ میری درسگاہ ہے۔
یہ درسگاہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے درالعوم دیوبند ہے جو جنوبی ایشیاء میں اسلامی تعلیمات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
مدرسے کے گیٹ سے گزرتے ہی ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو گئے جو کہ مغرب سے تعلق رکھنے والے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہو گی۔
برطانوی حکومت کےمخالف مسلمانوں نے اٹھارہ سو چھیاسی میں دیوبند کی درسگاہ تعمیر کی تھی۔

جان بٹ دیوبند سے فارض تحصیل ہونے والے پہلے واحد مغربی باشندے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان چالیس برسوں میں سے جان بٹ نے دیوبند کے علاوہ زیادہ تر عرصہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان علاقہ غیر میں پشتوں قبائلیوں کے درمیان گزارا۔
جان بٹ انیس سو انسٹھ میں ایک نشہ کرنے والے نوجوان ہپی کی صورت میں اس علاقے میں آئے تھے لیکن پھر واپس نہیں لوٹے۔
انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ’ لوگ مجھے آج بھی بوڑھاسابق ہپی کہتے ہیں اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں بوڑھا ضرور ہو رہا ہوں لیکن سابق ہپی نہیں ہوں بلکہ آج بھی ہپی ہوں۔‘
سفید داڑھی اور ساڑھے چھ فٹ لمبے قد کے مالک سفید شلوار قمیض میں ملبوس جان بٹ ایک راہب کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
کچھ دنوں پہلے تک وہ وادئ سوات کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔
وادئ سوات ماضی میں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز تھی لیکن اب وہ طالبان اور فوج کے درمیان لڑائی کا میدان بنی ہوئی ہے۔
لیکن انیس سوانسٹھ میں جب جان بٹ یہاں پہلی مرتیہ آئے تھے تو وہ اس وادئ میں سفیدبرف پوش پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان، سرسبز جنگلات اور دھوپ میں چمکتے دریا کا منظر دیکھ کر یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔
جان بٹ نے کہا کہ یہ سحر انگیز سرزمین کسی دوسرے دنیا کا حصہ لگتا تھا جہاں پر ملنسار، وسیع قلب ، گرم جوش اور روادار قبائل بستے ہیں۔

لیکن انیس سو اسی میں جان بٹ کی زندگی بدل گئی جب اس خطے میں پوری دنیا سے روس کے خلاف لڑنے کے لیے جہادی اکھٹا ہونا شروع ہوئے۔
عربوں کے مذہبی عقائد پشتونوں سے بہت مختلف ہے اور انھوں نے پیسے کے زور پر اپنے عقائد ان پر تھوپنے کی کوشش کی۔
جان بٹ جلال آباد میں ایک پشتوں اسلامی یونیورسٹی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس وقت افغانستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں نوجوان اعلی اسلامی تعلیم کے حصول کے لیے جا سکیں۔
لیکن پرامن اسلام کے فروغ اور تبلیغ سے وہ براہ راست شدت پسندوں سے متصادم ہو گئے ہیں۔ ان کا دل پسند پاکستان ان کے لیے اب محفوظ نہیں رہا ہے۔
سوات اب ایک فوجی علاقہ بن گیا ہے جہاں لوگ اب مجھے اجنبی تصور کرتے ہیں باوجود اس کے کہ میں نے یہاں چالیس سال گزارے ہیں۔
گزشتہ سال سیلاب کا پانی ان کا گھر بہا کر لے گیا۔
طلبان کی طرف سے دھمکیوں کے بعد افغانستان میں زندگی بڑی پر خطر ہو گئی ہے۔
طالبان نے انھیں رات کی تاریکی میں خطوط بھیجے ہیں جن میں نوجوانوں کو جان کی یونیورسٹی میں جانے سے خبردار کیا ہے اور جان کو ایک عیسائی مبلغ قرار دیا گیا ہے۔
ان کے اساتذہ اور عملے کو بھی دھمکیاں دی گئی ہے۔
جان بٹ نے کہا کہ انھوں نے چند بہترین مذہبی علماء کی خدمات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ افغانستان کے لیے کیا اہم ہے اور ان کا اصرار ہے کہ وہ تمام خطرات کے باوجود اپنا کام کرتے رہیں گے۔
جب میں نے انھیں الوداع کیا تو وہ جلال آباد کی بس پر سوار ہونے جا رہے تھے۔ ہم نے ان کی زندگی کو لاحق خطرے کے بارے میں بات کی ان کا کہنا تھا کہ موت ایک مرتبہ ہی آتی ہے اور مرنے سے ڈرتے نہیں ہیں۔







