چین کا افریقہ سے تعلقات کا دفاع

چین نے براعظم افریقہ کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات کا دفاع کیا ہے۔
اِس موضوع پر اپنی پہلی پالیسی دستاویز میں چینی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تعلق نے ثابت کیا ہے کہ چین افریقہ تعاون، افریقہ کو اقوام متحدہ کے مقرر کئے گئے ملینئیم ڈویلوپمنٹ اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی خوشحالی اور ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کرے گا۔
بیجنگ پر افریقہ کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششوں پر خاصی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔
بی بی سی کے چین کے لیے ایڈیٹر شیرونگ چِن کا کہنا ہے کہ چین اب براعظم افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین افریقہ دو طرفہ تجارت تینتالیس فیصد کے اضافے کے ساتھ دو ہزار نو میں بین الاقوامی مالی بحران کی وجہ سے آنے والی ایک معمولی سی کمی کے بعد اِس سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ایک سو چودہ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے سن دوہزار تین سے دو ہزار نو تک براہ راست سرمایہ کاری محض پچاس کروڑ سے بڑھ کر نو اعشاریہ تین ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے۔
نامہ نگار کے مطابق جہاں چین کو اپنی بڑھتی معیشت کے لیے تیل، گیس اور معدنیات جیسے قدرتی وسائل کی ضرورت ہے تو وہاں افریقہ کو اپنے بنیادی ڈھانچے میں اپنی گنجائش بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پالیسی دستاویز کے مطابق چین اس رشتے کو ایک خاصی بڑی سطح تک لے جانا چاہتا ہے۔
لیکن براعظم افریقہ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوغ کا ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں کچھ افریقی ممالک چین کی سیاست کو معیشت سے الگ رکھنے والے ماڈل کا خیرمقدم کرتے نظر آتے ہیں تو کئی ممالک اس تشویش کا اظہار کرتت ملتے ہیں کہ چین کی بر اعظم افریقہ کی ترقی میں بڑھتی دلچسپی یہاں بدعنوانی اور انسانی حقوق کی پامالی میں اضافے کا باعث بنے گی۔
نامہ نگار کے مطابق افریقی ممالک کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ سیاسی اصلاحات کے بدلے معیشت کی ترقی کا چینی ماڈل اپنائیں یا اپنا انفرادی ماڈل خود ہی تشکیل دیں۔
یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ چین کی اس پالسیی دستاویز میں شامل چین افریقہ تعاون فورم کی انڈیا اور یورپی یونین نے فوری طور پر نقل کی ہے اور امریکی سفارتکاروں نے افریقہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







