چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے پردستخط

معاہدے پر پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان کے صدور اور بھارتی وزیرِ پیٹرولیم نے دستخط کیے
،تصویر کا کیپشنمعاہدے پر پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان کے صدور اور بھارتی وزیرِ پیٹرولیم نے دستخط کیے

ترکمانستان کے دارلحکومت اشک آباد میں سنیچر کے روز پاکستان، بھارت، افغانستان اور ترکمانستان نے لگ بھگ ساڑھے سات ارب ڈالر کی لاگت سے ان چار ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانےکے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ، افغانستان کے صدر حامد کرزئی، ترکمانستان کے صدر قربانگ علی برد محمدوف جبکہ بھارت کی جانب سے پٹرولیم کے وزیر مرلی دیوڑا نے دستخط کیے۔

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اس تقریب میں شرکت نہیں کر سکے کیونکہ وہ ہندوستان اور یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لیے جمعرات سے بلجیئم کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس منصوبے سے علاقے کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا اور باہمی تعاون کو فروع کے لیے اداراتی سلسلے کو تقویت ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کی قلت کا شکار ملک ہے اور وہ اس منصوبے میں شراکت داری کا خیر مقدم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس گیس پائپ لائن منصوبے ( ٹیپی) پر کامیابی سے عملدرآمد میں پاکستان کی گہری دلچپسی، اس کی باہمی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو توانائی پر بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں ان چاروں ملکوں کے وزراء نے اشک آباد میں اس منصوبے کے فریم ورک پر دستخط کیے تھےجس کی توثیق انھوں نے سنیچر کے روز اشک آباد میں کی۔

ترکمانستان ، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان ( ٹیپی) کے درمیان سولہ سو چالیس کلومیڑ لمبی مجوزہ گیس پائپ لائن افغانستان سے گزر کر پاکستان اور پھر ہندوستان پہنچے گی۔ اس پائپ لائن کے ذریعے سالانہ تینتیس ارب کیوبک میٹرگیس درآمد کرنے کی استعداد ہوگی۔

یہ منصوبہ سنہ انیس سو پچانوے میں سامنے آیا تھا اور ابتداء میں اس منصوبے کے تحت پاکستان کو ترکمانستان سے افغانستان کے ذریعے گیس فراہم ہونا تھی لیکن سنہ دو ہزار آٹھ میں بھارت بھی اس منصوبے میں شامل ہوگیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دو ہزار چودہ تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ مبصرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار افغانستان کی صورت حال پر ہے۔

ترکمانستان میں دنیا کے دریافت شدہ گیس کے چوتھے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں اور وہ پہلے ہی چین، روس، یورپ اور ایران کو گیس فراہم کر رہا ہے جبکہ توانائی کی قلت کے شکار پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کیا ہے۔