اسرائیل: قابض علاقوں سے انخلاء کا بل

گولان کی پہاڑیاں
،تصویر کا کیپشنشام کا دعویٰ ہے کہ گولان کی پہاڑیاں اس کی ملکیت ہیں

اسرائیل کی پارلیمان نے گولان کی پہاڑیوں اور مشرقی یروشلم سے انخلاء کے لیے ایک بل منظور کیا ہے جس میں بہت سخت نئی شرائط رکھی گئی ہیں۔

بل کے مطابق کسی بھی طرح کے انخلاء کے لیے اسرائیلی کینیسٹ سے بل کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہو گی۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو اس پر قومی ریفرینڈم کرایا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے خطے میں امن کا عمل اور پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ اس کے بعد کسی بھی حکومت کے لیے قابض علاقوں سے انخلاء اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے حمایت یافتہ اس بل کے حق میں 65 جبکہ اس کی مخالفت میں 33 ووٹ پڑے۔ نتن یاہو نے کہا کہ اس بل سے غیر ذمہ دارانہ معاہدے روکے جا سکیں گے۔

مشرقی یروشلم: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر امن مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ہے

لکود پارٹی کے ممبر پارلیمان یاریو لیون، جنہوں نے اس بل کو پیش کیا تھا، کہا کہ عوام میں اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے یہ بہت ضروری تھا۔

اسرائیل سمجھتا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں اور مشرقی یروشلم پر اس کی خود مختاری ہے جبکہ شام گولان کی پہاڑیوں اور فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنے اپنے دعوے کرتے ہیں۔

غربِ اردن میں فلسطینی حکومت نے بل کی منظوری کے اقدام کی مذمت کی ہے۔

فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب اراکات نے کہا کہ ’بل کی منظوری سے اسرائیلی قیادت نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہماری زمین پر قبضہ ختم کرنے کے لیے کسی ریفرینڈم کی ضرورت نہیں۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنے۔

اس سے قبل فلسطین کے صدر محمود عباس نے یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک امن بات چیت نہیں چل سکتی جب تک وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم سمیت دوسرے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر روک نہیں دیتا۔