سنگاپور: برطانوی مصنف کو قید کی سزا

سنگاپور میں عدالت نے ایک برطانوی مصنف ایلن شیڈرک کو اپنی کتاب میں عدلیہ کی توہین کے الزام میں چھ ہفتوں کی قید کی سزا سنائی ہے۔
چھہتر سالہ برطانوی مصنف کو گزشتہ ہفتہ قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔
مصنف کو عدالت نے پندرہ ہزار پانچ سو امریکی ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایلن شیڈرک نے اپنی کتاب ’ونس اے جولی ہینگمین۔ سنگاپور جسٹس ان دی ڈوک‘ میں پھانسی کی سزا کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور الزام عائد تھا کہ اس میں غیر جانبداری کی کمی ہے۔
استغاثہ کے وکیل نے بارہ ہفتے کے سزا کی استدعا کی تھی۔شیڈرک نے معافی کی پیشکش کی تھی، جس پر ہائی کورٹ کے جج نے کہا کہ یہ صرف عدالت سے سزا میں رعایت حاصل کرنے کا حربہ ہے۔
شیڈرک کے وکیل کا کہنا ہے کہ اپیل کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کے پاس جرمانہ ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے اور ان کی صحت بھی خراب ہے اور افسوس کا اظہار کیا کہ برطانوی عوام کی جانب سے انھیں کوئی مدد یا حمایت نہیں ملی۔
ملائیشیا میں رہائش پذیر مصنف کو جولائی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی کتاب کی رونمائی کے سلسلے میں سنگاپور آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی کتاب میں انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء اور سابق پولیس افسران کے انٹرویوز کے ساتھ سنگاپور کی چنگائی جیل میں پھانسی لگانے والے درشن سنگھ کا پروفائل بھی شامل ہے۔
درشن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ انیس سو انسٹھ سے لے کر سال دو ہزار چھ تک ایک ہزار خواتین اورمردوں کو پھانسی دی گئی۔







