تفتیش کے طریقوں سے زندگیاں بچیں: بش

جارج بش
،تصویر کا کیپشنامریکہ کے چونسٹھ سالہ سابق صدر نے برطانیہ میں جنگ کی مخالفت کو زیادہ اہمیت نہیں دی

امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے کہا ہے کہ قیدیوں سے تفتیش کے ایک متنازعہ طریقے ’واٹر بورڈنگ‘، جس میں ڈوبنے کا احساس پیدا ہوتا ہے، کے استعمال سے برطانیہ میں زندگیاں بچانے میں مدد ملی۔

انھوں نے کہا کہ ’واٹر بورڈنگ‘ کے استعمال سے لندن میں ہیتھرو کے ہوائی اڈے اور علاقے کنیری وارف پر حملے کے منصوبے کی تفصیل ملزمان سے حاصل ہوئی تھی۔

امریکہ کے سابق صدر جارج بُش کی یاداشتوں پر مبنی کتاب(Decision Point) انگریزی روزنامے ’دی ٹائمز‘ میں سلسلہ وار شائع کی جا رہی ہے۔

جارج بش نے یہ بھی کہا کہ انہوں نےاس وقت برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو عراق جنگ میں شرکت سے دستبردار ہونے کا موقع بھی دیا تھا۔

صدر بُش نے دی ٹائمز اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تین لوگوں پر واٹر بورڈنگ کی تکنیک استعمال کی گئی اور ’میرے خیال میں اس فیصلے سے زندگیاں بچائی گئی تھیں۔‘

انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے امریکہ میں نو گیارہ کے حملوں کا منصوبہ بنانے والے القاعدہ کے رکن خالد شیخ محمد سے معلومات کے حصول کے لیے واٹر بورڈنگ کی اجازت دی تھی۔انہوں نے اخبار کو کہا کہ ’بالکل درست‘۔

صدر بُش نے کہا کہ ’ہم القاعدہ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو پکڑتے ہیں جس نے ہمارے تین ہزار لوگ ہلاک کیے۔ ہمیں محسوس ہتا ہے کہ اس کے پاس مزید حملوں کے منصوبوں کی بھی معلومات ہیں۔‘

’وہ کہتا ہے کہ میں آپ سے اس وقت بات کروں گا جب میرا وکیل موجود ہوگا۔‘ ’میں نے پوچھا ہم کیا کر سکتے ہیں جو قانون کے مطابق بھی ہو۔‘

برطانوی حکومت نے واٹربورڈنگ کی تکنیک کو ہمیشہ یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ وہ اسے تشدد تصور کرتی ہے۔

امریکہ کے چونسٹھ سالہ سابق صدر نے برطانیہ میں جنگ کی مخالفت کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ برطانیہ میں لوگ مجھے کیسے دیکھتے ہیں۔ اب اس سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھار اس وقت بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ جب برطانیہ میں ٹونی بلیئر کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا امکان پیدا ہوا تو انہوں نے ٹونی بلیئر کو عراق پر حملے سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں ٹونی بلیئر کی مشاورت اور ساتھ بحیثیت وزیر اعظم حاصل رہے۔

تاہم جارج بش کے مطابق ٹونی بلیئر نے کہا کہ حکومت چلی بھی جائے لیکن وہ ان کے ساتھ ہیں۔