افغانستان: منشیات کے خلاف امریکہ، روس کا آپریشن

روس کی انسدادِ منشیات کی ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں منشیات کی لیبارٹریز کے خلاف امریکہ اور روس نے مشترکہ طور پر کارروائی کی ہے۔
ایجنسی کے سربراہ وکٹر ایونوف نے اعلان کیا کہ پاکستان کی سرحد کے قریب مارے گئے ان چھاپوں میں ایک ٹن سے زیادہ مقدار میں ہیروئن اور افیون قبضے میں لی گئی ہے۔
وکٹر ایونوف نے کہا کہ پکڑی گئی منشیات کی مالیت 250 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور خیال ہے کہ اسے وسطی ایشیا بھیجا جانا تھا۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس طرح کا مشترکہ آپریشن پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔
ماضی میں روسی اہلکار افغانستان میں موجود اتحادی فوجیوں پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ منشیات کی پیداوار روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے اور اس کی وجہ سے روس کو اکیلے وہاں موجود 2.5 ملین منشیات کے عادی افراد کی دیکھ بھال کرنا پڑ رہی ہے۔
سابق سوویت یونین کے علاقوں میں ہیروئن افغانستان کے شمالی سرحد کے ممالک تاجکستان اور ترکمانستان کے ذریعے لائی جاتی ہے۔
اس کے بعد یہ قزاقستان کے ذریعے ہوتی ہوئی روس کے اورل کے علاقے میں پہنچتی ہے جہاں بہت زیادہ منشیات کے عادی افراد موجود ہیں۔
ایوانوف نے کہا کہ کارروائی میں دونوں ممالک کے تقریباً ستر افراد نے حصہ لیا جس میں روس کے انسدادِ منشیات کے ایجنٹ شامل تھے اور ساتھ ساتھ فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے ماسکو میں نامہ نگار رچرڈ گیلپن کے مطابق ننگر ہار میں امریکہ اور روس کا مشترکہ آپریشن افغانستان میں روس کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک نشانی ہے۔
اپنی سرزمین کو روس نے پہلے ہی افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکہ افواج کے لیے متبادل سپلائی روٹ بنانے کی اجازت دے دی ہے۔
روس اب افغان فوج کے لیے جنگی ساز وسامان فراہم کرنے کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔







