سو چی حراست: عدالت اپیل سنے گی

سو چی
،تصویر کا کیپشنان کی حراست میں اٹھارہ ماہ کا اضافہ پچھلے سال اگست میں کیا گیا تھا

برما کی سپریم کورٹ نے جمہوریت نواز رہمنا آنگ سان سو چی کی حراست کے خلاف حتمی اپیل سننے پر آمادہ ہو گئی ہے۔

آنگ سان سو چی کی مدتِ حراست رواں سال تیرہ اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ ان کی حراست بیس سال میں پہلی بار ہونے والے انتخابات کے چند روز بعد ختم ہو گی۔

برما میں فوجی حکمراں نے آئندہ سات نومبر کو عام انتخابات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جمہوریت نواز رہمنا آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے پچھلے انتخابات واضح اکثریت سے جیتے تھے۔ ان انتخابات کے بعد سے آنگ سان سو چی نے زیادہ عرصہ حراست ہی میں گزارا ہے۔

ان کی حراست میں اٹھارہ ماہ کا اضافہ پچھلے سال اگست میں کیا گیا تھا۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ایک امریکی جھیل میں تیر کر سو چی کے گھر پہنچ گیا تھا۔

سو چی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کو امید ہے کہ سو چی کو جلد رہا کردیا جائے گا اور وہ اس مقدمے میں سو چی کے بے گناہی ثابت کریں گے۔

یاد رہے کہ ان انتخابات سے قبل انیس سو نوے کے انتخابات میں جمہوریت نواز رہمنا آنگ سان سو چی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریٹک پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی تاہم فوج نے آنگ سو کی پارٹی کو کبھی بھی اقتدار نہیں سونپا اور ان کی جماعت پر پابندی عائد ہے۔

اُس کے بعد سے یہ پہلے عام انتخابات ہوں گے۔

انتخابات کے لیے ووٹنگ پر کنٹرول ہے اور نئے آئین کے تحت پارلیمان کی پچیس فیصد سیٹیں فوج کے لیے ریزرو ہیں۔

آنگ سوچی گزشتہ بیس برسوں سے یا تو جیل میں ہیں یا پھر اپنے گھر کے اندر محصور رہی ہیں۔خود محترمہ سو چی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ فوجی حکومت کے مطابق وہ ایک سزا یافتہ شہری ہیں۔