’تعمیرات پر پابندی تک مذاکرات نہیں‘

فلسطینی رہنماؤں نے صدر محمود عباس کے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی تک اسرائیل سے امن بات چیت نہیں ہو سکتی۔
یہودی بستیوں کی تعمیر پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے جزوی پابندی میں توسیع سے انکار کے بعد سے بات چیت تقریباً پہلے ہی سے رکی ہوئی ہے۔
فلسطینی رہنماؤں سے صد رمحمود عباس نے اس وقت ملاقات کی ہے جب رواں ہفتے سے یہوری بستیوں کی تعمیر دوبارہ سے شروع ہو رہی ہے۔
فلسطین کے اعلیٰ اہلکار یاسر عابد رابو نے کہا ہے کہ’ رہنماؤں نےاعادہ کیا ہے کہ بات چیت کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، اس لیے پہلے بستیوں کی تعمیر کو منجمد کیا جائے۔‘
رام اللہ میں صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد انھوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطین سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات چھوڑ کر نہ جائیں۔
غرب اردن میں فلسطینی قیادت کے اجلاس کے بعد صدر محمود عباس کے ترجمان نے اخبار نویسوں کوبتایا کہ امریکی مصالحت کاروں سے بات چیت جاری رہے گی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس پر اس بات کے لیے سخت دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کر دیں لیکن امید ہے کہ وہ آئندہ ہفتے لیبیا میں عرب وزائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے ایسا نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی قیادت کا یہ اجلاس ایک ایسی وقت ہوا ہے جب مذاکرات کو جاری رکھنےکے لیے امریکہ اور یوروپی ممالک نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ُادھر اس سلسلے میں مشرق وسطی میں امریکہ کے خصوصی ایلچی جارج مشیل اسرائیل رہنماوں سے ملاقات کے بعد مختلف عرب ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔
فلسطین نے یہ پہلے ہی واضح کر دیا تھا جب تک اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر نہیں روکتا اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی ہے۔
غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر یہ عارضی پابندی دس ماہ کی مدت کے لیے لگائی گئی تھی۔ یہ مدت گزشتہ اتوار کو ختم ہوگئی تھی۔
جبکہ اسرائیل کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے تعمیری کام روک دیا تو دائیں بازو کی ان کی مخلوط حکومت لڑکھڑا سکتی ہے۔
فریقین نے امریکہ کی مدد سے بیس سمتبر کو بلا واسطہ بات چیت شروع کی تھی۔ تاہم تمام کوششوں کے باوجود امریکہ اسرائیل کو اس بات پر قائل نہیں کرسکا کہ تعمیر پرس عائد جزوی پابندیوں میں توسیع کردے۔
سنہ انیس سو سرسٹھ کی جنگ کے بعد اسرائیل نے غرب اردن کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے ان علاقوں میں سو سے زائد تعمیرات میں پانچ لاکھ یہودیوں کو بسایا ہے۔
عالمی قوانین کے مطابق اس طرح کی بستی غیر قانونی ہے لیکن اسرائیل اس سے اختلاف رکھتا ہے۔ مغربی کنارے پر تقریبا پچیس لاکھ فلسطینی بھی آباد ہیں۔







