عالمی معاشی بحران کی وارننگ

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کی اواخر تک عالمی معیشت میں شرح نمو سست روری کا شکار ہو جائے گی۔
آئی ایم ایف نے مالیاتی سیکٹر میں کمزوری اور کئی ملکوں کی معیشتوں میں اعتماد کے فقدان کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بجٹ کے خسارے میں کمی کریں۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں امریکی پراپرٹی مارکیٹ میں مندی جیسے ان ممکنہ خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ امریکی پراپرٹی مارکیٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں سے عالمی مالیاتی بحران نے جنم لیا تھا اور خبردار کیا ہے کہ اگر گھروں کی قرقی میں اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی تو قرضے کی سپلائی میں مشلات پیدا ہو جائیں گی۔
عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ پراپرٹی مارکیٹ میں مشکلات کی وجہ سے اس مارکیٹ میں بھی بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی جہاں ملکوں کے قرضے کا لین دین ہوتا ہے۔
اسی نوعیت کی بحران کیفیت نے اس سال سے شروع میں یونانی میں معاشی مشکلات کو جنم دیا تھا۔
اس سلسلے میں اپنی سفارشات میں آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی معیشتوں میں توازن لائیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر زور دیا ہے کہ وہ برآمدات کی بجائے اندرون ملک ڈیمانڈ کو فروغ دینے پر توجہ دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف سے رپورٹ میں ترقی یافتہ ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ برآمدات میں اضافہ کریں اور بجٹ کے خسارے میں کمی لائیں۔







