' یہ موقع شاید پھر نہ آئے'

امریکی صدر براک اوباما نے فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے پائیدار امن کا موقع سے ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔

براک اوباما نے ان مذاکرات کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ' یہ موقع شاید پھر کبھی نہ آئے'۔

فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان بیس ماہ بعد پہلی بار براہ راست بات چیت کا آغاز واشنگٹن میں ہوا ہے۔

یہ بات چیت ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب بدھ کے روز مغربی کنارے میں چار یہودی آبادکاروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ صدر اوباما نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

فلسطینی رہنما، اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے ان ہلاکتوں کو امن مذاکرات میں خلل ڈالنے کی حماس کی ایک کوشش قرار دیا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے فلسطینی رہنما اور اسرائیلی وزیر اعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

براک اوباما نے محمود عباس اور نیتن یاہو کی مذاکرات کی کوشش کو سراہا اور کہا کہ یہ دونوں رہنما امن کے خواہاں ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ دونوں فریقین کو ہی امن کے لیے کوشش کرنی ہو گی اور یہ کہ فریقین سے زیادہ امریکہ امن کا خواہشمند ہے۔

واشنگٹن سے ہمارے نامہ نگار ذبیر احمد نے بتایا کہ دونوں فریق یہ پہلے سے ہی اشارے دے رہے ہیں کے وہ اپنے موقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی وفد کے ایک مذاکرات کار یوسسی بیلن کے مطابق ایک عارضی سمجھوتہ ممکن ہے۔