’برٹش پیٹرولیم معلومات فراہم نہیں کر رہی‘

خلیج میکسیکو میں آئل رگ کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ درخواستوں کے باوجود برٹش پیٹرولیم تیل کی رگ پھٹنے اور تیل کے اخراج سے پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں اہم معلومات فراہم نہیں کر رہی ہے۔
’ٹرانس اوشین‘ نامی آئل رگ کی کمپنی برٹش پیٹرولیم کے لیے کام کرتی ہے۔
اُس کا کہنا ہے کہ رگ پھٹنے کے اسباب جاننے کے لیے اس نے تیل نکالنے کے دوران مختلف اوقات کا ڈیٹا، آئل رگ پر پڑنے والے دباؤ کے لیے ہونے والے ٹیسٹ اور لبارٹری کی رپورٹ درکار ہیں۔
کمپنی کے قانونی مشیروں نے ایک مراسلہ صدر اوباما کی کابینہ کے ارکان کو بھیجا ہے جس میں کمپنی کے وکیل سٹیون رابرٹس نے لکھا ہے کہ برٹش پیٹرولیم رگ پھٹنے کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں متعدد درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کرتی رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بی پی کا یہ رویہ تیل کے معاملات میں شفافیت کے بار بار دعووں کی پالیسی کی نفی کرتا ہے اور اس امر کا عکاس ہے کہ بی پی کچھ اہم ثبوت چھپا کراس بارے میں غیر جانبدار تحقیقات سے بچنا چاہتی ہے۔
آئل رگ پھٹنے سے نقصانات کے ازالے کے ضمن میں ٹرانس اوشین کو 249 مقدمات کا سامنا ہے تاہم کمپنی نے عدالت سے کہا ہے وہ اس بحران کی ذمہ دار نہیں ہے۔
بی پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز ’گمراہ کن اور غلط اندازوں ‘ پر مبنی ہے۔
بی پی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سمندر کے تہہ میں رگ پھٹنے کے المیے کی وجہ جا ننا کا مصمم ارداہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی متعدد تفتیشی ٹیموں کے ساتھ پورا تعاون کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برٹش پیٹرولیم کمپنی کو خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے بعد امریکہ کی جانب سے پہلے بھی شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔
اس قسم کے الزامات سے بی پی پر پڑنے والے دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی سیاسی اور عوامی دباؤ کی زد میں رہی ہے۔
واضح رہے کہ خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ میں تیل نکالے جانے کے دوران بیس اپریل کو ایک دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنویں سے تیل کا رساؤ شروع ہوگیا تھا۔ اسے روکنے کی کوششوں کے دوران گیارہ کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔ تیل کے رساؤ سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں اسے امریکی تاریخ میں بدترین بحران کہا جاتا ہے۔
تیل کے اخراج سے پانی کی آلودگی اور دوسرے مضر اثرات کے بارے میں ایک سائنسی تحقیق میں تصدیق کی گئی ہے کہ سطح سمندر کے ایک کلومیٹر نیچے تک زہریلا کیمیائی مواد بدستور موجود ہے۔







