فیسٹیول میں بھگدڑ سے اٹھارہ ہلاک

جرمنی، بھگدڑ
،تصویر کا کیپشنبھگدڑ سے سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں

جرمنی کے شہر ڈیوسبرگ میں حکام کے مطابق لو پریڈ الیکٹرونک میوزک فیسٹیول میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو بھگدڑ اس وقت مچی جب پولیس نے پریڈ کے علاقے میں گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی کے بعد مزید لوگوں کو پریڈ میں شرکت کے لیے روکا۔

اس موقع پر پریڈ میں داخل ہونے والی سرنگ میں افراتفری پھیلنے سے بگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم سو افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھیں توقع تھی کہ اس فیسٹول میں دس لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پولیس کمشنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وقت صورتحال’ قابو سے باہر‘ ہو گئی تھی۔

پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ پریڈ کے علاقے میں گنجائش سے زائد افراد کی موجودگی کے بعد پولیس نے پریڈ کی جانب جانے والے راستے کو بند کر دیا تھا۔ پولیس نے پریڈ میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کو لاؤڈ سپیکرز سے آگاہ کیا کہ وہ واپس چلے جائے اور اسی دوران افرا تفری پھیل گئی۔

جرمنی میں بی بی سی کی نامہ نگار ٹریسٹانا مورے کلا کہنا ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق درجنوں لوگ ایک دوسرے کے اوپر گر گئے تھے۔ امدادی کارکنوں کو بھی زخمیوں کے پاس پہنچنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

فیسٹیول میں جانے والے ایک شخص نے مقامی اخبار کو بتایا کہ ’ وہاں سے فرار کا کوئی راستے نہیں تھا، لوگ دیوار کے ساتھ بری طرح دبے ہوئے تھے، انھیں ڈر تھا کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے۔‘

ایک اور شخص نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ’ پیچھے سے لوگوں کا دباؤ اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے، لوگوں ایک ساتھ اس وقت دھکا دیتے رہے جب تک گر نہیں گئے۔