بنگلہ دیش میں مولانا مودودی کی کتابیں ہٹا لی گئیں

بنگلہ دیش میں اسلامی فاؤنڈیشن کے حکم پر بر صغیر پاک و ہند میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابو اعلیٰ مودودی کے کی تمام کتابیں ملکی مساجد کی لائبریریوں سے ہٹا دی گئیں ہیں۔
اسلامی فاؤنڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے جو مذہبی امور پر نظر رکھتا ہے۔
اس سے پہلے کل ملکی پارلیمان میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مذ ہبی امور کے وزیر مملکت نے اس بارے میں انکشاف کیا تھا۔
ملک بھر میں ایسی مساجد کی تعداد چوبیس ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جن کی لائبریریوں سے کتابیں ہٹائی گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مولانا مودودی کی کتابیں اسلامی تعلیمات کی اصل روح کے منافی اور متنازع ہیں۔
ملک کی دوسری پبلک لائیبریریوں کے بارے میں ابھی علم نہیں ہوسکا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے ابھی کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے زیادہ تر رہنما اور کئی سو کارکن مختلف الزامات کے تحت قید ہیں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔
جماعت اسلامی حزب اختلاف کی نیشنلسٹ پارٹی کی اتحادی ہے جس کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کررہی ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وزیر اعظم حسینہ واجد اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کو روکیں۔ بنگلہ دیش میں کچھ عناصر جماعت اسلامی پر 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سید ابوالاعلیٰ مودودی جماعت اسلامی کے بانی تھے جس کی بنیاد تقسیم بر صغیر سے قبل 1941 لاہور میں رکھی گئی تھی۔
سید ابوالاعلٰی مودودی 1979 میں انتقال کرگئے تھے۔







