’رقم بچانے کے لیے خطرہ نظرانداز کیا‘
امریکی کانگریس کے ارکان نے برٹش پیٹرولیئم کے چیف ایگزیکٹو سے کہا ہے کہ ان کی کمپنی نے خلیج میکسیکو میں تیل کی تلاش کرتے وقت ممکنہ خطرات کو نظر انداز کیا۔

برٹش پیٹرولیئم کی جانب سے خلیج میکسیکو میں تیل بہہ جانے کے بعد کی صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش ناکام رہی۔
کمیٹی کے چیئرمین ہینری ویکس مین نے کہا کہ بی پی نے اخراجات بچانے کے لیے اوپر نیچے کئی ایسے اقدامات اٹھائے جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے قوت اور تجارت کے ارکان کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ لینے کے حوالے سے چیف ایگزیکٹو ٹونی ہاورڈ نے ارکان کے ساتھ اتفاق نہیں کیا۔ تاہم کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ بی پی کا اس حادثے کے حوالے سے رویہ محتاط نہیں تھا۔
کئی موقعوں پر ہاورڈ یا تو اراکین کی طرف سے کیے گئے سوالات کا جواب نہ دے سکے یا پھر وہ دینا نہیں چاہتے تھے۔ اس وجہ سے اراکین کو مزید غصہ آیا جس کے بعد ایک ارکان نے کہا کہ ہاورڈ کے رویے سے ان کی بے عزتی ہوئی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین ہینری ویکس مین نے کہا کہ بی پی نے اخراجات بچانے کے لیے اوپر نیچے کئی ایسے اقدامات اٹھائے جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
’ہمیں ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ بی پی نے ممکنہ خطرے کے حوالے سے کوئی اقدامات لیے ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم نے تیس ہزار صفحوں پر مشتمل بی پی کی رپورٹ پڑھی ہے جن میں آپ (ہاورڈ) کی ای میلیں بھی ہیں۔ ان میں نہ تو ایک ای میل ہے اور نہ ہی صفحہ ہے جس میں اس بات کا معلوم ہو سکے کہ کمپنی نے ممکنہ خطرے کی جانب تھوڑی سی بھی توجہ دی ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیٹی کے چیئرمین نے ہاورڈ سے کہا کہ وہ ذمہ داری قبول نہیں کر رہے بلکہ دوسروں پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔







