انتخاب میں صدر عمر البشیر دوبارہ منتخب

افریقہ کے ملک سوڈان میں پچیس سال بعد ہونے والے کثیر جماعتی صدارتی انتخابات میں جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے صدر عمر البشیر دوبارہ صدر منتحب ہو گئے ہیں۔

سوڈانی صدر عمر البشیر
،تصویر کا کیپشنسوڈانی صدر عمر البشیر

سوڈان کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر عمر البشر نے اڑسٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

گزشتہ سال انصاف کی بین الاقوامی عدالت نے صدر بشیر کو دارفور میں جنگی جرائم میں ملوث قرار دے کر ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے

سوڈان کے جنوب میں واقع نیم خود مختار علاقے میں سابق باغی رہنما سلوا کیر نے نوے فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

سوڈان کے جنوبی علاقے میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں سوڈان کے جنوبی علاقے اور مشرقی علاقے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وجہ سے بائیس سالہ خانہ جنگی ختم ہوئی تھی جس میں ڈیڑھ ملین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سلوا کیر کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ان انتخابات سے ثابت ہو گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں لوگ عمر البشیر کی مزید حکمرانی نہیں چاہتے۔

سوڈان میں مبصرین اور حزب مخالف کے رہنماوں نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ انتخابات جامع امن معاہدے کے تحت ہوئے ہیں جس سے جنوبی علاقوں میں اگلے سال مکمل خود مختیاری کے لیے ریفرنڈم کرانے کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔

عمر البشیر نے ایک ٹیلیوژن خطاب میں کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم شیڈول کے مطابق ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم اپنے طے شدہ وقت پر ہی ہوگا اور اس سے دارفور امن معاہدے کی تکمیل ہوگی۔

انھوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں ان کی کامیابی سوڈانی عوام کی کامیابی ہے۔صدر نے کہا کہ انتخابات کا عمل باعزت او مہذب انداز میں مکمل ہوا جس میں کسی قسم کا جھگڑا دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں عمر البشیر دوبارہ صدر منتخب ہونے کو انصاف کی بین الاقوامی عدالت کی سرزنش کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔