پائلٹ ریڈیو وائرلیس پر پیغام دیتا ہے کہ ان شدت پسندوں میں سے ایک کے پاس راکٹ لانچر ہے اور وہ ان پر راکٹ فائر کرنے لگا ہے۔اس پیغام کے بعد پائلٹ گلی میں کھڑے ہوئے شہریوں پر ہیلی کاپٹر کی مشین گن سے فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
(مکمل ویڈیو آپ ’وکی لیکس wikileaks‘ ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔)

ویب سائٹ نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں انتیالیس منٹ دورانیے کی یہ ویڈیوفٹیج کہاں سے حاصل ہوئی ہے
پیر کو ویڈیو جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو فٹیج ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر سے حاصل کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ بغداد کی گلی میں موجود شہریوں کو پائلٹ نے شدت پسند سمجھ کر فائرنگ شروع کر دی اور پھر لوگ گرنے لگے۔
اس ویڈیو میں پائلٹ اور زمینی فوج کے درمیان وائرلیس پر ہونے والی بات چیت بھی سنائی دیتی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بغداد کی ایک گلی میں آٹھ لوگ جمع ہیں اور پائلٹ وائرلیس پیغام میں انھیں مسلح شدت پسندوں کے طور پر شناخت کرتا ہے۔
پائلٹ ریڈیو وائرلیس پر پیغام دیتا ہے کہ ان شدت پسندوں میں سے ایک کے پاس راکٹ لانچر ہے اور وہ ان پر راکٹ فائر کرنے لگا ہے۔اس پیغام کے بعد پائلٹ گلی میں کھڑے ہوئے شہریوں پر ہیلی کاپٹر کی مشین گن سے فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔
پائلٹ ریڈیو وائرلیس پر پیغام دیتا ہے کہ ان شدت پسندوں میں سے ایک کے پاس راکٹ لانچر ہے اور وہ ان پر راکٹ فائر کرنے لگا ہے۔اس پیغام کے بعد پائلٹ گلی میں کھڑے ہوئے شہریوں پر ہیلی کاپٹر کی مشین گن سے فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔
اس واقعے کے چند منٹ بعد ایک وین میں سوار چند افراد آتے ہیں اور زخمیوں کو وین میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پائلٹ ان پر بھی فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ فائرنگ کے دونوں واقعات میں بارہ شہری ہلاک ہوئے تھے۔
پائلٹ اور زمینی فوج کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پائلٹ کا کہنا تھا کہ وین میں ابھی بھی کچھ لوگ موجود ہیں اور یہ بچے معلوم ہو رہے ہیں۔ اس پر زمین پر موجود فوجی تصدیق کرتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جنھیں وہ ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔
پھر آواز آتی ہے کہ ’یہ ان کی غلطی ہے کہ جنگ میں بچے بھی ساتھ لے آتے ہیں۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی فوجی حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو اصلی ہے۔
پینٹاگون نے ابھی تک اس ویڈیو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس واقعے کے وقت امریکی فوج نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹرز ایک مزاحمتی فورس کے خلاف آپریشن میں مصروف تھے۔
دو ہزار سات کو پیش آنے والے اس واقعے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے لیے کام کرنے والے دو صحافی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ رائٹرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس فوٹیج میں ہلاک ہونے والے افراد میں رائٹرز کے لیے کام کرنے صحافی شامل تھے۔
پینٹاگون نے ابھی تک اس ویڈیو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس واقعے کے وقت امریکی فوج نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹرز ایک مزاحمتی فورس کے خلاف آپریشن میں مصروف تھے۔
امریکی ہیلی کاپٹر سے کی جانے والے اس فائرنگ سے دو صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ویب سائٹ نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں یہ ویڈیو کہاں سے حاصل ہوئی ہے۔
یہ ویب سائٹ معلومات تک رسائی کی آزادی کے لیے کام کرتی ہے اور اس حوالے سے مختلف ویڈیوز ویب سائٹ پر نشر کرتی ہے۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔