میں نے سربوں کو بچانا چاہا: کرادچ
کرادچ تیرہ سال تک مفرور رہے اور انہیں دو ہزار آٹھ میں بلغراد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بوسنیا کے سابق رہنما رادووان کرادچ نے کہا ہے کہ سنہ انیس سو بانوے سے پچانوے کی خانہ جنگی کے دوران انھوں نے بوسنیائی سربوں کو ریاستی دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کی تھی۔
مسٹر کرادچ نے ہیگ کی عالمی عدالت میں اپنے خلاف جاری مقدے کی سماعت کے دوران کہا کہ انھوں نے جنگ روکنے کی کوشش کی تھی اور امن کے لیے ٹی وی پر آ کر اپیل بھی کی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ بوسنیائی جنگ میں ان پر لگنے والے گیارہ کے گیارہ الزام جن میں ان پر جنگی جرائم اور نسل کشی کا الزام بھی شامل ہے، غلط ہیں اور وہ بے گناہ ہیں۔
پیر کو مسٹر کرادچ نے بوسنیائی جنگ کو ’مقدس اور منصفانہ‘ قرار دیا تھا لیکن اس جنگ کو شروع کرنے کا الزام بوسنیا کے مسلمانوں پر لگایا تھا۔
اس سے پہلے تک انھوں نے اس مقدمے کا بائیکاٹ کیا تھا اور چاہا تھا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر ہو۔ اس مقدمے کی سماعت گزشتہ برس نومبر سے التوا کا شکار ہو رہی تھی۔
ادھر ایک بوسنیائی مسلمان رہنما کو جن کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جنگی جرائم کے الزام پر برطانیہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ہیگ کی عالمی عدالت میں سابق یوگوسلاویہ کے رہنما مسٹر کرادچ نے کہا کہ بوسنیا میں سیاسی بحران سے سرب تہنا ہوگئے تھے اور جب مسلمانوں نے آزادی چاہی توسرب نشانہ پر آگئے۔
انھوں نے کہا کہ سرب رہنماؤں نے سربوں کو خود ان کی اپنی ریاست کے جبر، پولیس کی زیادتی اور ریاستی دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کی تھی۔ ان میں شادی کی ایک تقریب پر اشتعال انگیز حملہ بھی شامل تھا۔
مسٹر کرادچ کا کہنا تھا ’مشترکہ پولیس کی جانب سے انتہائی شدید زیادتیاں ہو رہی تھیں جن سے بربادی پھیل رہی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرب رہنما نے کہا کہ جنگ سے قبل امن کے کئی امکانات پیدا ہوئے لیکن ’بوسنیاکس‘ نے انھیں مسترد کر دیا تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں کرادچ کے خلاف مقدمے میں وکیل استغاثہ نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا تھا کہ ’مسٹر کرادِچ نے قوم پرستی، نفرت اور بربریت کی قوتوں کو ایک جگہ جمع کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کے بغیر ریاست کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں۔‘
کرادچ تیرہ سال تک مفرور رہے اور انہیں دو ہزار آٹھ میں بلغراد سے گرفتار کیا گیا تھا۔







