فرعون بادشاہ کا سر دریافت

مصر میں آثار قدیمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں جنوبی شہر لکسر سے ایک مشہور فرعون بادشاہ کے مجسمے کا سر ملا ہے۔

مجسمے کا سر
،تصویر کا کیپشنتین ہزار سال پرانا یہ سر امن ہتوپ تین نامی بادشاہ کا ہے

تین ہزار سال پرانا یہ سر امن ہتوپ سوم نامی بادشاہ کا ہے جو کھدائی کے دوران دریافت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سر کی لمبائی دو عشاریہ پانچ میٹر (آٹھ فٹ) ہے اور یہ ایک بڑے مجسمے کا حصہ ہے جو کئی سال قبل ملا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محفوظ کیے گئے کسی بھی بادشاہ کے مجسمے کے سر کی بہترین مثال ہے۔

مجسمہ دریافت کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ہورگ سروزین کا کہنا ہے کہ’دوسرے مجسموں کا ہمیشہ کوئی حصہ ٹوٹا ہوا ملتا ہے جیسے کہ ناک، کان یا چہرے کے خدوِخال مٹ چکے ہوتے ہیں۔‘

’لیکن یہ تاج سے لے کر تھوڑی تک خوبصورتی سے تراشا ہوا، پالش شدہ اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘

مصر کے آثار قدیمہ کے سربراہ ظہی حواس کا کہنا ہے کہ ’یہ اعلیٰ فنی معیار کا بہترین نمونہ ہے۔‘

ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ وہ اس مجسمے کو پھر سے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

امن ہتوپ تین نے 1387 سے 1348 قبل مسیح تک مصر پر حکومت کی اور اس کی وسیع سلطنت جنوب میں نبیا سے لے کر شمال میں شام تک پھیلی ہوئی تھی۔