’جنگ کا مقصد مقدس اور منصفانہ تھا‘

سابق بوسنیائی سرب رہنما رادووان کرادچ نے نوے کی دہائی میں ہونے والی جنگ کے مقصد کو ’مقدس اور منصفانہ‘ قرار دیا ہے اور اس جنگ کو شروع کرنے کا الزام دوسرے نسلی گروہوں پر عائد کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات دی ہیگ میں اپنے ٹرائل کے دوران کہی۔ کرادچ کو جنگی جرائم کے گیارہ الزامات کا سامنا ہے جن کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔
کرادچ پیر کو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ ٹرائل گزشتہ سال نومبر میں ملتوی کیا گیا تھا اور جج نے اسے مزید ملتوی کرنے کی درخواست رد کر دی تھی۔
کرادچ ان گیارہ الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
جنگی جرائم ٹریبیونل میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی اس قوم اور اس کے مقدس اور انصاف پر مبنی مقصد کا دفاع کروں گا۔ ہمارا کیس مضبوط ہے اور ہمارے پاس اچھے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔‘
کرادچ کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے گیارہ الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں کرادچ کے خلاف مقدمے میں وکیل استغاثہ نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا تھا کہ ’مسٹر کرادِچ نے قوم پرستی، نفرت اور بربریت کی قوتوں کو ایک جگہ جمع کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کے بغیر ریاست کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں۔‘
کرادچ تیرہ سال تک مفرور رہے اور انہیں دو ہزار آٹھ میں بلغراد سے گرفتار کیا گیا تھا۔



