افغان امداد: ’فوج راستے کی رکاوٹ‘

ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس لڑائی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہلالِ احمر نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس لڑائی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

لندن میں افغانستان پر ہونے والی اہم عالمی کانفرنس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے برطانوی اہلکاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

برطانوی اہلکاروں کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد شہری اور فوجی وسائل کو افغانستان کی سربراہی میں سیاسی حکمتِ عملی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔

اس سے قبل امدادی اداروں کے ایک گروپ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں افغانستان میں امدادی کوششوں میں بڑھتی ہوئی فوجی شمولیت کی مذمت کی گئی۔گروپ کے مطابق جلد نتائج حاصل کرنے کے دباؤ کی وجہ سے امداد افغانستان میں فوج کے ہاتھوں سے گزر رہی ہے جبکہ اسے عام شہریوں کے ذریعے سے لوگوں تک دستیاب ہونا چاہیے۔

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے افغانستان میں جانے والی امداد کا رنگ ’فوجی‘ ہو گیا ہے۔

جس رپورٹ میں اس پہلو کی مذمت کی گئی ہے اسے آٹھ امدادی اداروں نے تیار کیا ہے اور کہا ہے کہ فی الوقت جس طرح امداد تقسیم کی جا رہی ہے طویل مدت میں یہ طریقہ زیادہ مؤثر نہیں ہوگا۔

افغانستان کے لیے امداد میں فوجی اثر امریکہ کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس کے کمانڈروں کے پاس خرچ کرنے کے لیے اربوں ڈالر دستیاب ہیں۔

امدادی اداروں کے ایک گروپ نے جن میں آکسفیم، کیئر اور افغان ایڈ اور ان اداروں کا افغانستان میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے، تخمینہ لگایا ہے کہ اس برس فوج امداد پر ایک بلین ڈالر خرچ کرے گی جو افغان حکومت کے صحت، تعلیم اور زرعی شعبوں کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ رقم ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق فوجیوں نے صورتِ حال کو قابو کرنے کے لیے جو چھوٹے چھوٹے حل ایجاد کر رکھے ہیں ان کا کوئی پائیدار اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ منصوبے جو دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کے لیے بنائے جاتے ہیں وہ نامناسب ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان سے غربت کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

ادھر ایک اور رپورٹ میں ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس لڑائی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ لندن میں افغانستان پر ہونے والی اہم عالمی کانفرنس سے محض ایک روز قبل سامنے آئی ہے۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں انسانی زندگی کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ جتنا کہیں اور نہیں۔

قندھار میں ہپستالوں کے ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ دو ہزار نو میں زخمی لوگوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔