محمود عباس کا صدر رہنا ناگزیر ہے: فرانس

ہم سب کو مل کر صدر محمود عباس سے کہنا چاہیے کہ وہ کتنے فائدہ مند اور ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں : وزیر خارجہ
،تصویر کا کیپشنہم سب کو مل کر صدر محمود عباس سے کہنا چاہیے کہ وہ کتنے فائدہ مند اور ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں : وزیر خارجہ

فرانس کے وزیر خارجہ برناڈ کوشنے نے فلسطین کے صدر محمود عباس پر زور دیا ہے کہ انھیں آئندہ صدارتی انتخاب سے دستبردار ہونے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے محمود عباس سے ملاقات کے بعد کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے محمود عباس’نا گزیر‘ ہیں۔ وزیر خارجہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیا من نتن یاہو سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں جس میں وہ تعلطل کا شکار امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ان پر زور ڈالیں گے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ فلسطینی صدر کو حمایت کی پیشکش کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے اگلی مدت کے لیے صدارتی انتخاب سے دستبردار ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اردن سے اسرائیل روانگی سے پہلے فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے عمل میں محمود عباس کا ایک اہم کردار رہا ہے۔’ ہم سب کو مل کر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے کہنا چاہیے کہ وہ کتنے فائدہ مند اور ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سب کو ایک ایسے حل کے لیے آگے بڑھنا ہو گا جو سب کی نظر میں لازمی ہونا چاہیے، ایک مستقل جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام جو اسرائیل کے ساتھ رہے اور اسرائیل اس کی کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔فرانس کےوزیر خارجہ کا یہ بیان اسرائیلی کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کو اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے مشرقی یروشلم میں ایک یہودی بستی میں نو سو اضافی گھروں کی تعمیر کے فیصلے پر تنقید کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

فلسطین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل سے امن مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک وہ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر نہیں روکتا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ داخلہ کی پلاننگ اینڈ کنسٹرکشن کمیٹی نے یہودی بستی جیلو کے توسیعی منصوبے کی منظوری دی ہے جو انیس سو اڑسٹھ میں قبضے میں لی گئی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ زمینوں پر بستیوں کی تعمیر غیر قانونی سمجھی جاری ہے۔ تاہم اسرائیل اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔