اولمرٹ کے خلاف مقدمہ شروع

ایہود اولمرٹ(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنبعض اندازوں کے مطابق سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمے کی سماعت چار سال چل سکتی ہے

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے خلاف یروشلم میں بد عنوانی کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

اولمرٹ کے خلاف فراڈ، دھوکہ دہی، کارپوریشن کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور اپنی آمدن ظاہر نہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان کے خلاف مقدمے کا تعلق اس دور سے ہے جب وہ سن دو ہزار چھ میں وزیر اعظم بننے سے قبل کابینہ کے رکن اور یروشلم کے میئر تھے۔

سابق وزیر اعظم کے وکلا نے مقدمے کو انتہائی کمزور قرار دیا ہے۔ اولمرٹ کو کو گزشتہ برس ستمبر میں ان الزامات کی وجہ سے وزارت اعظمیٰ سے استعفی دینا پڑا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک امریکی تاجر سے لاکھوں ڈالر وصول کیے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جب یروشلم کے میئر تھے انہوں نے یہ پیسہ انتخابی مہم پر خرچ کیا تھا۔ اولمرٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔

استغاثہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے کئی اسرائیلی خیراتی اداروں کے ساتھ بھی فراڈ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے اسرائیلی خیراتی اداروں سے سفر کے لیے بانوے ہزار ڈالر لیے جبکہ حکومت ہی یہ رقم ادا کر چکی تھی۔