فرانس: تارکین وطن کا کیمپ ختم

پولیس نے فرانسیسی بندرگاہ کیلے کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی عارضی جھونپڑیوں کو گرانےکا کام شروع کر دیا ہے۔
فرانسیسی پولیس کے سینکڑوں اہلکار جنگل کے نام سے مشہور اس کیمپ میں موجود تقریباً تین سو لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک ہزار سے زائد تارکینِ وطن پہلے ہی کیمپ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔کیمپ میں رہنے والے تارکین وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہے۔
تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی کچھ تنظیموں نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تارکین وطن کو پناہ دے۔
دوسری طرف برطانوی وزیر داخلہ ایلن جانسن نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے کہ برطانیہ کو کچھ تارکین وطن کو پناہ دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ایما جین کربی کا کہنا ہے کہ کیمپ میں رہنے والے لوگوں نے بینر لگا رکھے تھے’برائے مہربانی ہمارے جنگل کو ختم نہ کریں یہ ہمارا گھر ہے‘۔
منگل کی صبح انسانی حقوق کے کارکنوں نے انسانی زنجیر بنا رکھی تھی۔ کیمپ میں موجود کچھ لوگ آسانی سے قطار بنا کر پولیس کے ساتھ باہر نکل آئے جبکہ کچھ لوگوں نے مزاحمت کی۔
ان تارکینِ وطن میں سے زیادہ تر لوگوں کو اپنے مستقبل کی فکر ہے یہاں رہنے والے ایک شخص بشیر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے یورپ کے راستے برطانیہ آنے کے لیے پندرہ ہزار ڈالر ادا کیے ہیں اب اس کے مستقبل کا کیا ہوگا۔
اس کارروائی سے کچھ دیر قبل فرانس کے ایمیگریشن کے وزیر ایرک بیسن نے کہا کہ اس کیمپ کو بند کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والوں کا اڈہ بن گیا ہے ایسے سمگلر جو ان غریب اور بھولے بھالے لوگوں کو انگلینڈ کا خواب دکھا کر اس کی بڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







