کیلے کیمپ کو گرانے کی تیاریاں

پولیس فرانسیسی بندرگاہ کیلے کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی عارضی جھونپڑیوں کو گرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
جنگل کے نام سے مشہور تارکین وطن کے عارضی کیمپ میں موجود فرانسیسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جھونپڑیاں گرانے کا کام اس ہفتے کے آخر تک ہو گا جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق یہ آپریشن منگل کے روز انجام پائے گا۔
تارکین وطن کے لیے کام کرنے والے کچھ تنظیموں نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تارکین وطن کو پناہ دے۔
دوسری طرف برطانوی وزیر داخلہ ایلن جانسن نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے کہ برطانیہ کو کچھ تارکین وطن کو پناہ دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اس عارضی کیمپ میں عام طور پر پندرہ سو تارکین وطن موجود ہوتے ہیں۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولیس آپریشن کے خطرہ کے پیش نظر زیادہ تر پہلے ہی کیمپ چھوڑ چکے ہیں۔
پیر کر رات تک وہاں موجود رہنے والے کچھ تارکین وطن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں خطرات کا شکار ہیں۔
دو ہفتے پہلے برطانوی بارڈر ایجنسی نے فرانس کی سرحد پر ایک ٹرک سے اٹھارہ غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا تھا۔
ٹرک سے برآمد ہونے والے لوگوں میں سولہ افغان اور دو عراقی تھے۔ ان لوگوں کو فرانس کے سرحدی شہر کیلے کے قریب روکا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایجنسی کے اہلکاروں نے بتایا کہ ٹرک تین چوتھائی گلٹن کے پاؤڈر سے بھرا ہوا تھا۔ مذکورہ ٹرک کا جرمنی میں اندراج ہوا تھا۔ کیلے میں تربیت یافتہ کتوں نے ٹرک کے خفیہ خانے دریافت کیے۔
سکیورٹی ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ سفر کی طوالت اور ٹرک میں ہوا کے گزر کا بندو بست نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کا نقصان بھی ہو سکتا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ ایجنسی نے جنوری سے اب تک چودہ ہزار لوگوں کو غیر قانونی طور پر انگلش چینل پار کرنے سے روکا ہے اور اس کے علاوہ چارلاکھ سامان لے جانے والے ٹرکوں کو چیک کیا ہے۔
ایجنسی غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑنے کے لیے کتوں کے علاوہ، دل کی دھڑکن کا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا پتہ چلانے والے آلات سے بھی مدد لیتے ہیں۔
برطانوی حکام نے پکڑے گئے اٹھارہ افراد کی انگلیوں کے نشان حاصل کیے اور برطانیہ داخلے سے منع کر دیا۔







