تیل کی عالمی قیمتیں گر گئیں

عالمی سطح پر مسلسل کمزور اقتصادی صورتحال کے خطرے کے پیش نظر تیل کی قیمتیں کم ہو کر ساٹھ ڈالر فی بیرل سے نیچے چلی گئی ہیں۔
امریکی حکومت کو پہلی بار ایک سال میں ایک کھرب ڈالر یعنی ایک ہزار ارب ڈالر کا ادھار لینا پڑا ہے تاکہ وہ بجٹ کا خسارہ پورا کر سکے۔
امریکیوں کی ایک بڑی تعداد بیروزگار ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس وجہ سے بیروزگاروں کو سہولیات دینے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔عراق کی جنگ کے اخراجات بھی امریکی خسارے کی ایک وجہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ہوئی اوراب یہ گزشتہ برس اپنی انتہا کے نصف سے بھی کم ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اقتصادی بحران ختم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔
امریکہ کی اقتصادی صورتحال کے بارے میں کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی کے سمتھ سکول کے پروفیسر سنگ وون سوہن نے کہا کہ چین سمیت دیگر عالمی سرمایہ کاروں اب نہ صرف ڈالرکی قیمت کے بارے میں پر تشویش ہیں بلکہ اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ طویل مدت میں ان کا پیسہ کس حد تک محفوظ ہے۔



