بوسنیا: چودہ سال بعد تدفین

بوسنیائی مسلم
،تصویر کا کیپشنعالمی عدالت اس واقعے کو نسل کشی کہہ چی ہے

بوسنیا میں چوہ سال قبل قتل عام کا شکار ہونے والے مسلمانوں میں سے مزید پانچ سو چوبیس افراد کی شناخت کے بعد تدفین کی گئی ہے۔ سربرینیکا کے علاقے میں انیس سو پچانوے میں بوسنیائی سربوں نے آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان لڑکوں اور مردوں کو قتل کر کے اجتماعی قبروں میں دفنا دیا تھا۔

ان ہلاک ہونے والوں میں سے اب پانچ ہزار کی شناخت ہو چکی ہے۔ ہزاروں لوگوں نے نئے شناخت ہونے والے افراد کی تدفین میں شرکت کی۔ یہ تقریب مشرقی بوسنیا میں سربرینیکا کے قریب ہی ایک قبرستان میں ہوئی۔

مقتولین کے تابوت حاضرین کے بیچ میں سے گزارتے ہوئے ان کے نام پکارے گئے۔ تابوتوں کو سبز چادروں میں لپیٹا گیا تھا۔

موقع پر موجود ایک ستائیس سالہ نوجوان نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی باقیات کی سالوں سے تلاش کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ایک تکلیف دہ لمحہ تھا جب انہیں فون پر بتایا گیا کہ ان کی لاش کی شناخت ہو گئی ہے۔

سربرینیکا پر بوسنیائی سربوں نے گیارہ جولائی انیس سو پچانوے میں حملہ کیا۔ اس وقت قریب ہی اقوام متحدہ کے فوجی تعینات تھے جن کا تعلق ہالینڈ سے تھا، اور شہر کو محفوظ علاقہ قرار دیا جا چکا تھا۔ حملہ آوروں نے لیکن اس کی بالکل پرواہ نہیں کی۔

ہلاک ہونے والی افراد ہالینڈ کی حکومت کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کر چکے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔

بوسنیا میں امریکہ کے سفیر چارلز انگش نے سربرینیکا میں تدفین کی موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اس وقت کچھ نہیں کیا اور بوسنیا کے معصوموں کو بچانے میں ناکام رہی۔

چودہ سال سے بہتر سال کی عمر کے مقتولین کو، جن کی لاشیں اب دفنائی گئی ہیں، سرب فوجیوں نے پہلے ایک جگہ دفنایا پھر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے نئی قبر میں منتقل کر دیا تھا۔

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم انصاف کی عالمی عدالت سربرینیکا کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ عدالت میں بوسنیائی سرب رہنما راڈووان کراچک کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔ کراچک جرم سے انکار کرتے ہیں۔ انہیں سن دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا تھا۔