عالمی اقتصادی بحران بدستور جاری

جنگ عظیم کے بعد کے دورے موجود صورت حال زیادہ خراب ہے
،تصویر کا کیپشنجنگ عظیم کے بعد کے دورے موجود صورت حال زیادہ خراب ہے

عالمی مالیاتی بینک نے کہا ہے کہ سن دو ہزار نو میں دنیا کی معیشت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ ایک اعشاریہ تین فیصد کی شرح سے مزید کمی واقع ہو گی۔

جنوری میں عالمی مالیاتی بینک نے پیشن گوئی کی تھی کہ سن دو ہزار نو میں دنیا کی معیشت صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھے گی۔

بینک نے برطانیہ کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ برطانیہ کی معیشت سن دو ہزار نو میں چار اعشاریہ ایک فیصد کی شرح سے کم ہو گی جبکہ سن دو ہزار دس میں اس میں مزید اعشاریہ چار فیصد کی کمی ہو گی۔

سن دو ہزار دس میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں سے بھی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا رہی ہیں اور اجتماعی طور پر معاشی ترقی کی رفتار صفر رہنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال دوسری جنگ عظیم کے بعد سے زیادہ سنگین ہے۔

دنیا کے امیر ملکوں میں پیداوار سات اعشاریہ پانچ فیصد کی غیر معمولی سالانہ شرح سے کم ہو رہی ہے اور آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی پیداوار میں اسی رفتار سے کمی ہو گی۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں میں اقتصادی بحالی سے دنیا کی اقتصادی صورت حال سن دو ہزار دس میں بہتر ہو سکتی ہے گو کہ ترقی کی رفتار صرف ایک اعشاریہ نو فیصد تک ہی رہے گی۔

آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق سن دو ہزار نو میں عالمی تجارت میں بھی کوئی بہتری کی توقع نہیں ہے۔ بینک نے کہا ہے کہ عالمی تجارت اس سال گیارہ فیصد کی شرح سے کم ہو گی اور سن دو ہزار دس میں اس میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو گا۔

ساٹھ سال تک عالمی اقتصادی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ رہنے کے بعد اب عالمی تجارت میں کمی سے برآمدات کرنے والے بڑے ملکوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ برطانیہ میں کساد بازاری سب سے زیادہ شدید ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہاں جائیدار کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور اس کے مالیاتی اداروں بحران کا شکار ہیں۔

آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق برطانیہ میں بے روز گاری سن دو ہزار دس کے آخر تک نو اعشاریہ دو فیصد سے بڑھے جائےگی جو کہ اس وقت چھ اعشاریہ سات فیصد پر ہے۔