روس اور ایران: پیچیدہ تعلقات کے باوجود کیسے قریب آ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین پر حملے کے بعد دنیا کے بہت سے خطوں میں روس کو ایک اچھوت کی طرح سے دیکھا جانے لگا ہے۔ حیثیت کم ہونے کے بعد روس ایسے اتحادوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے مجبور ہوا ہے جن پر وہ بہتر وقتوں میں غور بھی نہیں کرتا تھا۔ ان میں سے ایک ایران کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلقات ہیں۔
وہ ایسی قومیں ہیں جو تاریخی لحاظ سے کئی معاملوں میں تقسیم ہیں۔ تاریخی طور پر بہت سے ایرانیوں کو روسی سلطنت اور سوویت یونین کی جانب سے مظالم یاد ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی سطح پر بھی ان میں اختلافات ہیں کیونکہ وہ توانائی کے معاملات میں بھی حریف ہیں۔
لیکن مغرب کے خلاف ان کی دشمنی انھیں اکثر اکٹھا کر دیتی ہے۔
یوکرین پر اپنے حملے کے آغاز کے بعد سے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بیرون ملک کے پانچ دورے کیے ہیں ان میں سوائے تہران کے تمام سابق سوویت 'ستان' کی سرحد والے ممالک شامل تھے۔ واضح رہے کہ گذشتہ جولائی میں انھوں نے تہران کا دورہ کیا جسے دنیا نے نادر دوروں میں شمار کیا۔
حیرت انگیز طور پر اس دورے کے دوران پوتن نے شام میں تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا جس میں 'خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے احترام کے بنیادی اصولوں' پر سختی سے عمل کیے جانے کی بات کہی۔
ایران کے دورے سے پوتن نے دنیا کو پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ روس کو الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کے باوجود اس کے پاس اب بھی اتحادی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس کی کچھ اہمیت برقرار ہے۔
لیکن حقیقت میں بہت سے لوگوں نے اسے روس کو سیاسی اور سفارتی طور پر ذات باہر کیے جانے کے ایک اور ثبوت کے طور پر دیکھا۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا: 'یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسٹر پوتن اور روس کس حد تک الگ تھلگ ہو رہے ہیں۔ اب انھیں مدد کے لیے ایران کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا لگتا ہے کہ ابھی حال ہی میں روس کو ایران میں فوجی مدد حاصل ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کو یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ہونے والے حملے میں روسی افواج نے ایرانی ساختہ شاہد-136 ڈرونز کے استعمال کیے جن کی پہنچ 2,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ خودکار طور پر پرواز کر سکتے ہیں۔
اگرچہ تہران نے باضابطہ طور پر روس کو آلات کی فراہمی سے انکار کیا ہے لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی پہلی کھیپ اگست میں فراہم کی گئی تھی۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک 'انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار' کی ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ شاید ایرانیوں کے ایک گروپ نے روسی افواج کو ڈرونز کا استعمال کرنے کا طریقہ سکھانے کے لیے یوکرین میں روس کے زیر قبضہ علاقوں کا سفر کیا ہو۔
'دوست' اور حریف
روسی صدر پوتن اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی شام، بیلاروس اور وینزویلا کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ پابندیوں کے شکار ممالک کی قیادت کرتے ہیں۔ شام بیلاروس اور وینزویلا میں ایسی حکومتیں ہیں جنہیں مغربی ممالک کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
لیکن روس اور ایران کا اتحاد پوتن کی چاہت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی امور میں ایران روس تعلقات کے ماہر حمیدرضا عزیزی کا کہنا ہے کہ ماسکو اور تہران کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جسے دوستی اور دشمنی کے اتار چڑھاؤ والے امتزاج سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'دونوں ممالک کے موجودہ رہنما اس بات پر زور دینا پسند کرتے ہیں کہ ان کے درمیان سٹریٹجک تعلقات ہیں اور وہ اتحادی ہیں۔
'لیکن دوسری طرف اگر ہم شام میں انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں اور توانائی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دشمنی بھی ہے۔'
اگرچہ روس اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ شام کو بشار الاسد کی کمان میں رہنا چاہیے تاہم ماسکو اور تہران کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
وہ بعض علاقوں کے کنٹرول کے لیے مخصوص قسم کی لڑائی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ جنگ کے بعد شام کو کیسا نظر آنا چاہیے اس کے بارے میں بہت مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک پیچیدہ ماضی
لیکن روس اور ایران کے درمیان مخاصمت تاریخی ہے۔
عزیزی کا کہنا ہے کہ 'ایرانی روس کے بارے میں بہت مشکوک ہیں، کیونکہ روسیوں کی ان کے ملک (ایران) کے معاملات میں مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے۔'
19ویں صدی اور 20ویں صدی کے کچھ حصے کے دوران ایران کو اپنی سرزمین کو کنٹرول کیے جانے اور اس کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی مسلسل اور اکثر کامیاب روسی کوششوں کے ساتھ جینا سیکھنا پڑا۔
مثال کے طور پر سنہ 1979 کے ایران میں اسلامی انقلاب کے مقاصد میں سے ایک خاص طور پر سوویت یونین کا مقابلہ کرنا تھا۔
بہر حال یہ تعلقات سنہ 2007 میں پوتن کے ایران کے دورے کے بعد سے آگے بڑھے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ دورہ سنہ 1943 میں جوزف اسٹالن کے بعد کسی روسی رہنما کا تہران کا پہلا دورہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اگرچہ عزیزی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی روس اور ایران کو اتحادیوں کے طور پر نہیں دیکھتے، لیکن وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے بعد سے انھوں نے بتدریج سٹریٹجک تعلقات قائم کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'شام میں دونوں کے درمیان مسابقت کے باوجود، زمینی سطح پر دونون میں بہت تعاون دیکھا گیا ہے۔
'ہم اب یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی ڈرونز اب روس کے زیر استعمال ہیں، جو کہ اپنے آپ میں نادر المثال ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'روس ایران کو تنازع میں گھسیٹنا چاہتا ہے'
امریکہ کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے روس کی دنیا بھر میں اتحادیوں کی تلاش جاری ہے، خاص طور پر سنہ 2014 میں کریمیا کے الحاق کے لیے مغرب کی جانب سے اس پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایران کو روس کے لیے 'سہولت کا ساتھی' بنا دیا ہے۔
یہ بات آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے 'سینٹر فار عرب اینڈ اسلامک اسٹڈیز' میں اپنے موضوع کے ماہر عالم صالح نے کہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ماسکو اور تہران دونوں اس باہمی تعلق سے مختلف مقاصد کے حصول کے خواہاں ہیں۔
انھوں نے کہا: 'روس ایران کو یوکرین کے ساتھ تنازعے میں گھسیٹنا چاہتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ تہران کو مغرب کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جائے تاکہ اسے مغربی دائرے سے مزید دور کیا جا سکے۔'
ان کا اصرار ہے کہ 'روس کو ایرانی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے، وہ صرف تنہائی کے لمحے میں مدد چاہتا ہے۔'
تہران کے لیے روس کے ساتھ شراکت داری کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2018 میں امریکہ کو ایران کے جوہری معاہدے سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔
جرمن انسٹی ٹیوٹ کے عزیزی کا کہنا ہے کہ 'ایرانی حکومت مایوس کن صورتحال کا شکار تھی اور اس ملک کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کے ساتھ اسے روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنا پڑی۔'
عالم صالح کا خیال ہے کہ ایران کو اقتصادی اور فوجی مدد کے علاوہ احتجاج کی تازہ لہر میں جس سے ایرانی حکومت اس وقت مشکلات کا شکار ہے اسے اقوام متحدہ میں روس کی حمایت اور اس کی ضرورت ہے۔
اپنے دورۂ ایران کے دوران پوتن نے اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے کا وعدہ کیا اور ایرانی تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دو ممالک جو ایک دوسرے کے تکمیل نہیں کرتے
لیکن بہت سے لوگوں کو اس بات کا شبہ ہے کہ روس بہت زیادہ مدد نہیں کر سکتا کم از کم اقتصادی سطح پر تو نہیں کر سکتا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق مغربی پابندیوں کے پیکجوں کے سلسلے کے بعد روسی معیشت میں رواں سال 3.5 فیصد اور اگلے سال 2.3 فیصد گرواٹ کا امکان ہے۔
حامد رضا عزیزی بتاتے ہیں کہ معیشت ویسے بھی کبھی بھی روس ایران تعلقات کا اہم حصہ نہیں رہی۔
'معاشی طور پر روس اور ایران ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ دونوں ممالک کا انحصار ہائیڈرو کاربن اور توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے۔'
اور دونوں معیشتوں نے اس طرح ترقی کی ہے کہ ان کے درمیان بامعنی تعاون مشکل ہو گئے ہیں۔
حامدرضا عزیزی کہتے ہیں کہ 'ایران کے لیے ان تکنیکی مصنوعات کی مارکیٹ بننا مشکل ہے جن کی روس کو ضرورت ہے اور اس کے برعکس بھی درست ہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دونوں ممالک کو یا تو مغرب یا پھر چین کی طرف دیکھنا ہوگا، جیسا کہ وہ حال ہی میں کر رہے ہیں۔'
عزیزی نے خبردار کیا کہ دو طرفہ تعلقات کے مستقبل کا انحصار ایران کے گھریلو حالات پر ہوگا۔
اگر ایران کو ہلا دینے والے موجودہ مظاہرے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں تو ماسکو کے ساتھ 'سٹریٹیجک تعاون' ختم بھی ہو سکتا ہے۔











