تیل کی پیداوار پر بڑھتا تناؤ: کیا سعودی عرب ’یہودی لابی‘ کے سہارے امریکہ سے ٹکر لینے کو تیار ہے؟

امریکہ سعودی عرب تعلقات

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

    • مصنف, اقبال احمد
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کے اوپیک پلس کے فیصلے کے ’بُرے نتائج‘ ہوں گے۔

یاد رہے کہ امریکی مخالفت کے باوجود پانچ اکتوبر کو تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی نمائندہ تنظیم ’اوپیک پلس‘ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں دو ملین بیرل یومیہ کمی کریں گے۔

امریکہ نے تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن سعودی عرب سمیت اوپیک پلس ممالک نے امریکہ کی منشا کے خلاف فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں امریکی صدر نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔

اوپیک پلس تیل برآمد کرنے والے 23 ممالک کا ایک گروپ ہے۔ یہ گروپ مل کر فیصلہ کرتا ہے کہ تیل کی کتنی پیدوار کرنی ہے اور عالمی منڈی میں کتنا تیل بیچنا ہے۔

اوپیک کا قیام 1960 میں ہوا تھا۔ دنیا کا تقریباً 30 فیصد خام تیل اوپیک ممالک سے آتا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل کی پیدوار کرنے والا ملک ہے جو روزانہ 10 ملین بیرل تیل کی پیدوار کرتا ہے۔

جب سنہ 2016 میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی تھی تو اوپیک نے تیل پیدا کرنے والے مزید 10 ممالک کو اس گروپ میں شامل کیا اور اوپیک پلس گروپ تشکیل دیا تھا، اس وقت روس بھی اوپیک پلس کا حصہ بن گیا تھا۔ روس بھی روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

اس گروپ میں 13 ممالک بہت اہم ہیں جن میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک ہیں۔ اوپیک پلس ممالک مل کر دنیا کا 40 فیصد خام تیل پیدا کرتے ہیں۔

سعودی عرب نے جو کچھ کیا اس کے نتائج سامنے آئیں گا: بائیڈن

امریکہ سعودی عرب تعلقات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اس فیصلے کے بعد امریکی صدر بائیڈن نے منگل کو امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے سعودی عرب پر کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوں گے۔

بائیڈن کے انٹرویو سے صرف ایک دن قبل سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین اور با اثر ڈیموکریٹک سینیٹر باب مینینڈیز نے کہا تھا کہ ’امریکہ کو سعودی عرب کے ساتھ تمام تعلقات کو فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔‘

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں بائیڈن نے کہا کہ ’جو کچھ انھوں ( سعودی عرب) نے روس کے لیے کیا ہے اس کے کچھ نتائج ہوں گے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں اور میرے ذہن میں کیا ہے۔ لیکن اس کے نتائج ہوں گے۔‘

امریکہ اوپیک ممالک کے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کا تعلق روس سے جوڑتا ہے۔

لیکن سعودی عرب نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے کیا گیا ہے، قیمتوں میں اضافے کے لیے نہیں۔

سعودی عرب کا امریکہ کو جواب

سعودی وزارت خارجہ نے ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے اوپیک پلس کے تیل کی پیداوار کم کرنے کے فیصلے پر روسی حمایت اور امریکہ کے خلاف سیاست کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سعودی وزارت خارجہ کا ردعمل امریکی صدر بائیڈن کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینے کا کہا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں بیانات میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی تنازعات میں فریق بن رہا ہے اور سیاسی طور پر امریکہ کے خلاف متحرک ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب ان بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، جو حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور اوپیک پلس کے فیصلوں کو معاشی تناظر سے ہٹ کر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ گروپ کے تمام رکن ممالک نے متفقہ طور پر کیا ہے۔ یہ فیصلہ کسی ایک ملک کا نہیں ہے۔ یہ فیصلہ معاشی بنیادوں پر لیا گیا ہے تاکہ تیل کی منڈی میں طلب اور رسد میں توازن قائم رہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے قائم تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ سعودی حکومت نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ جاری بات چیت میں واضح کیا ہے کہ اوپیک پلس کے فیصلے کو ایک ماہ تک ملتوی کرنے کے منفی اقتصادی نتائج ہوں گے۔ اس فیصلے کو ملتوی کرنے کی تجویز دی گئی۔ یوکرین کے بحران کے تناظر میں سعودی عرب کے موقف کے بارے میں حقائق کو مسخ کرنا افسوسناک ہے اور اس سے سعودی عرب کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس میں روس یوکرین تنازعہ پر اقوام متحدہ کی قرار داد کی حمایت میں ووٹنگ بھی شامل ہے۔‘

اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے العربیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’انھیں یقین ہے کہ امریکہ سودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کی ’اصل اہمیت‘ کو جانے گا۔‘

العربیہ نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ مکمل طور پر اقتصادی وجوہات پر مبنی ہے۔‘

دریں اثنا روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی اوپیک پلس کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان روس کے دورے پر ہیں۔ صدر پوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’ہم نے یہ فیصلہ طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ ہمارا فیصلہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے۔‘

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے قانون سازوں اور غیر ملکی اتحادیوں کی مشاورت سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کا ’جائزہ‘ لے گا۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وسط مدتی انتخابات اور امریکہ پر دوہرا وار

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارائن جین پیئر نے منگل کو کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ اوپیک پلس روس کے ساتھ ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ بعد میں وضاحت کریں گی کہ اس سے امریکہ سعودی تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔

یونیورسٹی آف ڈیلاویئر میں بین الاقوامی امور اور تدریس کے ماہر پروفیسر مقتدر خان کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کے اس فیصلے سے امریکہ کو دوہرا نقصان پہنچا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر روس اس سے کچھ منافع کماتا ہے تو وہ اس رقم کو یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں استعمال کرے گا، دوسری جانب امریکہ میں تیل کی قیمت بڑھنے کی صورت میں اس کا براہ راست اثر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر پڑے گا۔‘

امریکہ میں آئندہ ماہ آٹھ نومبر کو پارلیمنٹ، ریاستی اور گورنرز کے لیے انتخابات ہوں گے۔

صدر بائیڈن کا ان انتخابی نتائج سے براہ راست تعلق نہیں ہے لیکن اگر ریپبلکن پارٹی ایوان میں اپنی اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو بائیڈن کے لیے کوئی بھی بل منظور کروانا مشکل ہو جائے گا۔ وہ اپنی پارٹی کے اندر بھی کمزور ہو جائیں گے اور اس کا براہ راست اثر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخاب پر پڑے گا۔

یورپ کی خاطر دباؤ

لیکن اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ کا یہ الزام کہ سعودی عرب نے جان بوجھ کر ایسا فیصلہ روس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا، درست ہے۔ اس پر پروفیسر مقتدر خان کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا بالکل غلط ہے۔ جب سے روس یوکرین جنگ شروع ہوئی ہے۔ تب سے امریکہ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ یوکرین اور یورپ کی خاطر قربانیاں دیں۔‘

محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پروفیسر خان کے مطابق یورپ کے کئی ممالک اب بھی روس سے تیل خرید رہے ہیں، اس لیے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی درست نہیں۔

لیکن پروفیسر اے کے پاشا جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے استاد رہ چکے ہیں، کی رائے مختلف ہے۔ پروفیسر پاشا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سعودی عرب کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے دائرہ اثر سے باہر آنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

پروفیسر پاشا کا کہنا ہے کہ اس کے اشارے سال 2006 میں ہی ملے تھے جب سعودی عرب کے اس وقت کے حکمران شاہ عبداللہ نے انڈیا اور پھر چین کا دورہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سوال کے جواب میں کہ اگر سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں، پروفیسر پاشا کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کو یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ امریکہ اب آہستہ آہستہ مشرق وسطیٰ سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور اس کی پوری توجہ ایشیا پیسیفک پر ہے۔‘

پروفیسر پاشا کے مطابق سعودی عرب کو لگتا ہے کہ اوپیک پلس کے اس فیصلے سے اس کی معاشی حالت بہتر ہو گی اور اس کا براہ راست تعلق سیاسی استحکام سے ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس کے پیش نظر سعودی عرب اپنے روایتی حریف اسرائیل اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہودی لابی اور سعودی عرب

محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی عرب کے اس فیصلے سے امریکہ ناراض ہے لیکن ایک سوال یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ کے غصے کا سامنا کرنے کی ہمت کہاں سے اکٹھا کر رہا ہے؟

پروفیسر مقتدر خان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اب اتنا طاقتور نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ دس پندرہ برس پہلے جب امریکی صدر صرف فون کرتا تو سعودی عرب وہی کرتا تھا جو امریکہ چاہتا تھا۔‘

پروفیسر خان کے مطابق اب یہودی لابی بھی سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات اب بہتر ہو رہے ہیں۔ اگر امریکہ نے سعودی عرب پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو اسرائیل اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے اور ایسا کوئی اقدام اس عمل کو سست کر دے گا۔ امریکہ میں اسرائیل کے مفاد کو ہمیشہ امریکی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے۔‘

صدر بائیڈن اب کیا کریں گے؟

محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پروفیسر مقتدر خان کے مطابق امریکہ اور خاص طور پر بائیڈن انتظامیہ کا سارا غصہ آٹھ نومبر کو ہونے والے الیکشن کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر نومبر کے پہلے ہفتے میں تیل سمیت ہر چیز کی قیمت بہت زیادہ بڑھنے لگتی ہے تو ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نتائج بری طرح متاثر ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ڈیموکریٹک پارٹی وسط مدتی الیکشن جیتتی ہے یا ایوان میں اپنی برتری برقرار رکھتی ہے تو کچھ نہیں ہوگا، اگر صدر بائیڈن چاہیں تو وہ خود سعودی عرب کے خلاف بہت سے فیصلے کر سکتے ہیں لیکن انھوں نے اس کو ٹالنے کے لیے پارلیمنٹ پر سب کچھ ڈال دیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب کے خلاف اور خاص طور پر ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف بہت زیادہ بیان بازی ہو گی۔ امریکی میڈیا میں ولی عہد محمد بن سلمان کو ولن کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ لیکن امریکہ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائے گا۔‘

ان کے مطابق جولائی 2022 سے پہلے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات ایک بار پھر پہلے جیسے ہوں گے۔

لیکن پروفیسر اے کے پاشا کی رائے مختلف ہے۔

ان کے مطابق اگر صدر بائیڈن کی پارٹی ایوان میں اپنی اکثریت کھو دیتی ہے تو 2024 کا صدارتی انتخاب ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بہت مشکل ہو سکتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ مضبوط دعویدار کے طور پر الیکشن میں سامنے آ سکتے ہیں۔

پروفیسر پاشا کا خیال ہے کہ صدر بائیڈن سعودی عرب کے خلاف کچھ سخت اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ سعودی عرب پر بھی کسی قسم کی پابندیوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق صدر بائیڈن سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون حملوں کے متاثرین کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ دوبارہ اٹھایا جا سکتا ہے اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پروفیسر پاشا کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب کے خلاف امریکی انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کو دوبارہ منظر عام پر لایا جائے اور سعودی عرب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا جائے۔