آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹک ٹاک پر شامی بچوں کی بھیک کا 70 فیصد ٹک ٹاک کی جیب میں
- مصنف, حنا گیلبرٹ ممدوح اکبیک اور زیاد القطان
- عہدہ, بی بی سی گلوبل ڈس انفارمیشن یونٹ، بی بی سی نیوز عربی اور بی بی سی آئی انویسٹی گیشن
بی بی سی کی ایک تحقیق میں پتا چلا ہےکہ شامی پناہ گزین کیمپوں میں لوگ ٹک ٹاک پر عطیات کی بھیک مانگ رہے ہیں جب کہ کمپنی اس بھیک سے ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد تک رکھ لیتی ہے۔
بچے گھنٹوں سوشل میڈیا ایپ پر لائیو سٹریمنگ کر رہے ہیں، نقد قیمت کے ساتھ ڈیجیٹل تحائف کی درخواست کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے سٹریمرز کو فی گھنٹہ نو سو ڈالرتک کماتے ہوئے دیکھا، لیکن کیمپوں میں موجود لوگوں کو اس کا معمولی سا حصہ ملتا ہے۔
ٹک ٹاک نے کہا کہ وہ 'استحصالی بھیک مانگنے' کے خلاف فوری کارروائی کرے گا۔
کمپنی نے کہا کہ اس کے پلیٹ فارم پر اس قسم کے مواد کی اجازت نہیں تھی، کمپنی نے کہا کہ ڈیجیٹل تحائف سے اس کا کمیشن 70 فیصد سے کہیں کم ہے تاہم اس نے صحیح رقم کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔
اس سال کے شروع میں، ٹک ٹاک صارفین نے دیکھا کہ ان کی فیڈز شامی کیمپوں میں موجود خاندانوں کے لائیو سٹریموں سے بھری ہوئی ہیں، جس میں کچھ ناظرین کی اس کی تئیں حمایت اور کچھ میں اس حوالے سے مشکلات کے بارے میں تشویش پائی گئی۔
شام کے شمال مغربی کیمپوں میں، بی بی سی نے پایا کہ اس رجحان کو نام نہاد 'ٹک ٹاک مڈل مین'یا دلالوں کی جانب سے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جو ان لوگوں کو لائیو جانے کے لیے فون اور آلات فراہم کرتے ہیں۔
مڈل مین کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین اور مشرق وسطیٰ میں ٹک ٹاک سے منسلک ایجنسیوں کے ساتھ کام کیا، جنہوں نے لوگوں کو ٹک ٹاک اکاؤنٹس تک رسائی دی۔ یہ ایجنسیاں لائیو اسٹریمرز کو بھرتی کرنے اور صارفین کو ایپ پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دینے کے لیے ٹک ٹاک کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ ٹک ٹاک الگوریدم صارف کے فون نمبر کی جغرافیائی نوعیت کی بنیاد پر مواد تجویز کرتا ہے، اس لیے مڈل مین نے بتایا کہ وہ برطانوی سم کارڈ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے لوگ سب سے زیادہ عطیات اور تحفہ دینے والے لوگ ہیں۔
مونا علی الکریم اور ان کی چھ بیٹیاں اُن خاندانوں میں شامل ہیں جو ہر روز ٹک ٹاک پر لائیو جاتے ہیں، گھنٹوں اپنے خیمے کے فرش پر بیٹھ کر وہ چند انگریزی جملے دہراتے ہیں جو وہ جانتے ہیں مثلا 'براہ کرم لائیک کریں، شیئر کریں، برائے مہربانی عطیہ دیں'۔
مونا کے شوہر کی موت ایک فضائی حملے میں ہوئی تھی اور وہ اپنی بیٹی شریفہ کے آپریشن کے لیے پیسے جمع کرنے کے لیے لائیو سٹریم کا استعمال کر رہی ہیں، جو نابینا ہے۔
وہ جو تحائف یا عطیہ مانگ رہے ہیں وہ ورچوئل ہیں، لیکن ان پر ناظرین کی حقیقی رقم لگتی ہے اور ایپ سے نقد رقم کے طور پر نکالے جا سکتے ہیں۔ لائیو سٹریم کے ناظرین تحائف بھیجتے ہیں جن میں ڈیجیٹل گلاب سے لے کر، جن پرچند سینٹ کی لاگت سے، تقریباً 500 ڈالر کی لاگت والے ورچوئل شیر تک بھیجتے ہیں۔
پانچ مہینوں تک، بی بی سی نے بے گھر لوگوں کے لیے شامی کیمپوں سے براہ راست نشریات کرنے والے 30 ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو فالو کیا اور ان سے معلومات نکالنے کے لیے ایک کمپیوٹر پروگرام بنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناظرین اکثر ہر اکاؤنٹ میں فی گھنٹہ ایک ہزار ڈالر تک کے ڈیجیٹل تحائف عطیہ کر رہے تھے۔
کیمپوں میں موجود خاندانوں نے کہا کہ انہیں ان رقوم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ مل رہا ہے۔
ٹک ٹاک نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ تحائف سے کتنا حصہ لیتا ہے، بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے ایک تجربہ کیا کہ یہ پیسہ آخر کہاں جاتا ہے۔
شام میں ایک رپورٹر نے ٹک ٹاک سے منسلک ایجنسیوں میں سے ایک سے رابطہ کیا کہ وہ کیمپوں میں رہ رہا ہے۔ اس نے ایک اکاؤنٹ حاصل کیا اور لائیو سٹریمِنگ شروع کی جبکہ لندن میں بی بی سی کے عملے نے دوسرے اکاؤنٹ سے 106 ڈالر مالیت کے ٹک ٹاک تحائف بھیجے۔
بی بی سی کے 106 ڈالر کے تحفے میں سے محض 33 ڈالر باقی تھے جب اسے مقامی رقم کی منتقلی کی دکان سے تبدیل کروایا گیا تو اس میں مزید 10 فیصد رقم کم ہو گئی۔ ٹِک ٹِک مڈل مین اس میں سے 35 فیصد لے گا، جس سے ایک فیملی کو صرف 19 ڈالر ہی مل سکیں گے۔
سابق پروفیشنل رگبی پلیئر کیتھ میسن نے ایک فیملی کے لائیو سٹریم کے دوران تین سو پاؤنڈ کا عطیہ دیا اور اپنے تقریباً 10 لاکھ فالوورز کو ایسا کرنے کی ترغیب دی۔انہوں نے بتایا کہ شامی فیملی کے لوگوں کے ساتھ انکا یہ ٹک ٹاک تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے لائیو دیکھا تھا۔
جب بی بی سی نے انہیں بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر فنڈز سوشل میڈیا کمپنی نے لیے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ یہ ان بے گھر خاندانوں کے ساتھ 'ناانصافی' اور 'مضحکہ خیز'ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ' میرے نزدیک یہ بہت بڑا لالچی پن ہے اس میں کچھ شفافیت ہونی چاہیے'۔
کیمپوں میں ٹک ٹاک کے مڈل مین میں سے ایک حامد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک پر خاندانوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے موبائل فون، سم کارڈ اور وائی فائی کنکشن کی ادائیگی کے لیے اپنے مویشی فروخت کیے تھے۔
اب وہ 12 مختلف خاندانوں کے ساتھ دن میں کئی گھنٹے براڈ کاسٹ کرتے ہیں۔
حامد کا کہنا تھا کہ وہ ان بے گھر خاندانوں کو روزی کمانے میں مدد کے لیے ٹک ٹاک کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اخراجات نکال کر انہیں زیادہ سے زیادہ منافع ادا کرتے ہیں۔
حامد نے کہا کہ انہیں دوسرے دلالوں کی طرح، چین میں 'لائیو ایجنسیوں' کی حمایت حاصل ہے، جو ٹک ٹاک کے ساتھ براہ راست کام کرتی ہیں۔
حامد نے کہا، 'اگر ہمیں ایپ کے ساتھ کوئی پریشانی ہوتی ہے تو وہ ہماری مدد کرتے ہیں ،وہ بلاک شدہ اکاؤنٹس کو غیر مقفل کرتے ہیں۔ ہم انہیں صفحہ کا نام، پروفائل تصویر دیتے ہیں، اور وہ اکاؤنٹ کھولتے ہیں'۔
اس طرح کی ایجنسیاں، جو 'لائیو سٹریمنگ گِلڈز' کے نام سے مشہور ہیں اور پوری دنیا میں قائم ہیں، ٹک ٹاک سے معاہدہ کرتی ہیں تاکہ مواد کے تخلیق کاروں کو مزید دلکش لائیو سٹریمز تیار کرنے میں مدد کی جا سکے۔
ایجنسیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹک ٹاک انہیں لائیو سٹریم کی مدت اور موصول ہونے والے تحائف کی قیمت کے مطابق کمیشن ادا کرتا ہے۔
دورانیے پر زور دینے کا مطلب یہ ہے کہ ٹک ٹاکر، بشمول شامی کیمپوں میں بچے، ایک وقت میں گھنٹوں لائیو رہتے ہیں۔
ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشن ایکسس ناؤ سے تعلق رکھنے والی مروا فافٹا کا کہنا ہے کہ یہ لائیو سٹریمز نابالغوں کو 'نقصان، خطرے یا ان کے استحصال کو روکنے' کے لیے ٹک ٹاک کی اپنی پالیسیوں کے برعکس چلتی ہیں'۔
انہوں نے کہا، 'ٹک ٹاک واضح طور پر کہتا ہے کہ صارفین کو تحائف مانگنے کی اجازت نہیں ہے، لہذا یہ ان کی اپنی ہی خدمات کی شرائط کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے حقوق کی بھی واضح خلاف ورزی ہے'۔
مروا تسلیم کرتی ہیں کہ لوگوں کو حق ہے کہ وہ اپنی کہانیاں آن لائن شیئر کریں ' لوگوں کی سپورٹ اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کریں'، لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان لائیو سٹریمز میں 'وقار کی کمی ہے، اور یہ ذلت آمیز ہیں'۔
ٹک ٹاک کے قوانین کا کہنا ہے کہ آپ کے لائیو جانے سے پہلے آپ کے 1,000 فولورز ہونے چاہئیں، آپ کو براہ راست تحائف کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے اور پلیٹ فارم پر نابالغوں کے 'استحصال کو روکنا' چاہیے۔
لیکن جب بی بی سی نے ان 30 اکاؤنٹس کی اطلاع دینے کے لیے ان ایپ سسٹم کا استعمال کیا جس میں بچے بھیک مانگ رہے تھے، تو ٹک ٹاک نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں اس کی پالیسیوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔
بی بی سی کے تبصرے کے لیے ٹِک ٹِاک سے براہِ راست رابطہ کرنے کے بعد، کمپنی نے تمام اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی۔.
کمپنی نے ایک بیان میں کہا 'ہمیں بی بی سی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور موصول ہونے والی اطلاعات پر گہری تشویش ہے، اور اس بارے میں ہم نے فوری اور سخت کارروائی کی ہے'۔
'ہمارے پلیٹ فارم پر اس قسم کے مواد کی اجازت نہیں ہے، اور ہم استحصالی بھیک مانگنے کے بارے میں اپنی عالمی پالیسیوں کو مزید مضبوط کر رہے ہیں'۔
تجزیاتی کمپنی سینسر ٹاور کے مطابق، دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے 2017 میں اپنے آغاز کے بعد سے ایپ کے اندر اخراجات سے مجموعی طور پر6 اعشاریہ دو ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی کی ہے۔
بی بی سی نے ٹک ٹاک لائیو پر پیسہ کمانے کے متبادل کے طور پر کیمپوں میں خاندانوں کی مدد کے لیے شام میں کام کرنے والے کئی خیراتی اداروں سے رابطہ کیا۔
ایک مقامی خیراتی ادارے تکافل الشام نے کہا کہ وہ خاندانوں کو اگلے تین ماہ تک بنیادی سامان فراہم کرے گا، بچوں کو سکول تلاش کرنے اور ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں مدد کرے گا۔
لیکن کیمپوں میں بہت سے لوگوں کے لیے، آن لائن بھیک مانگنے کے علاوہ پیسہ کمانے کے مواقع بہت کم ہیں۔ روزانہ سینکڑوں خاندان رواں دواں رہتے ہیں، اور عطیہ کی گئی زیادہ تر رقم اب بھی ٹک ٹاک کے پاس جا رہی ہے۔