’مقدر کا پتھر‘: برطانوی تاریخ کی ’دلیرانہ چوری‘ جس میں ملوث افراد کو کبھی سزا نہیں دی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سٹیون بروکل ہرسٹ
- عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز
برطانیہ کے ایک پولیس اہلکار نے جب ویسٹ منسٹر ایبی کے باہر موجود گاڑی میں بیٹھے ایک جوڑے کو گرمجوشی سے بغیر گیر ہوئے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ برطانوی تاریخ کی سب سے دلیرانہ ڈکیتی کی واردات کر رہے تھے۔
گاڑی میں موجود شخص کا نام این ہیملٹن تھا جن کی وفات حال ہی میں 97 برس کی عمر میں ہوئی ہے۔ سنہ 1950 میں وہ گلاسگو یونیورسٹی کے 25 سالہ طالب علم تھے جو سکاٹش قوم پرستی کا ایک دھماکے دار نمونہ پیش کرنے کے لیے پُرعزم تھے۔
پولیس اہلکار نے اُن کو اپنی ساتھی طالبہ ’کے میتھسن‘ کے ہمراہ کار میں سوار دیکھا تھا جس کے بعد وہ ان سے یہ پوچھنے گئے کہ وہ کرسمس کی صبح سویرے ویسٹ منسٹر ایبی کے باہر گاڑی کیوں کھڑی کیے ہوئے ہیں؟
ایک دوسرے سے بغل گیر جوڑے نے وضاحت کی کہ وہ سکاٹ لینڈ سے ابھی ابھی پہنچے ہیں اور اُن کو کسی ہوٹل میں کمرہ نہیں ملا۔ پولیس اہلکار نے ہمدردی دکھاتے ہوئے اُن سے گپ شپ کی اور پھر اُن کو اس مقام سے گاڑی ہٹانے کی ہدایت کی۔
اُن کی گاڑی کو دور جاتے دیکھنے والے پولیس اہلکار کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ گاڑی میں سکاٹ لینڈ کی قدیم ترین علامت سمجھے جانے والے ’سٹون آف ڈیسٹنی‘ (مقدر کا پتھر) کا ایک ٹوٹا ہوا ٹکڑا چھپا کر رکھا گیا تھا جسے چھ صدیوں پہلے برطانوی بادشاہ ایڈورڈ اول نے قبضے میں لیا تھا۔
رات ہونے سے پہلے ہی این ہیملٹن اس پتھر کا 150 کلو وزنی دوسرا ٹکڑا بھی چوری کر چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
اس پتھر کو برسوں تک سکاٹ لینڈ میں بادشاہوں کی تاج پوشی میں استعمال کیا جاتا رہا جب تک آزادی کی جنگوں کے دوران اسے لوٹ کر بادشاہ ایڈورڈ اول کے تخت میں نصب نہیں کر دیا گیا۔
اس واردات کے کئی سال بعد این ہیملٹن نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’مقدر کا پتھر سکاٹ لینڈ کی علامت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سکاٹ لینڈ پر ان گنت برطانوی حملوں میں سے ایک کے دوران وہ ہماری قوم کی اس علامت کو چرا کر لے گئے۔ اس کو واپس لانا بھی ایک علامتی عمل تھا۔‘
چنانچہ کرسمس کی چھٹیوں میں یونیورسٹی کے چار طلبا دو پرانی فورڈ گاڑیوں میں لندن روانہ ہوئے۔ گینگ کے دیگر دو اراکین گیون ورنن اور ایلن سٹورٹ تھے۔
ان کا منصوبہ تھا کہ این ہیملٹن کو ایبی بند ہونے سے پہلے ہی کسی تاریک کونے میں چھپا دیا جائے جو بعد میں اندر سے دروازہ کھول دے گا۔ تاہم رات کو چوکیدار نے اُن کو دیکھ لیا اور باہر جانے پر مجبور کیا۔ چوکیدار نے ان کا یہ بہانہ مان لیا کہ وہ غلطی سے اندر پھنس گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگلی رات انھوں نے ایک بار پھر کوشش کی۔ صبح چار بجے انھوں نے ایک گاڑی قریب ہی کھڑی کر دی اور دوسری گاڑی ویسٹ منسٹر ایبی کے عقب میں باہر تک لے گئے۔
کے میتھسن گاڑی میں ہی رہیں اور باقی تینوں دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے گئے۔ کے میتھسن نے بعد میں کہا کہ ان کو یقین تھا کہ ’دروازہ توڑنے کی کوشش میں جو شور ہوا وہ لندن کی دوسری حد تک سنا گیا ہو گا۔‘ دروازہ کھولنے کے بعد انھوں نے تخت کے نیچے موجود پتھر ہٹانے کی کوشش شروع کر دی۔
انھوں نے پتھر نکال کر زمین پر رکھ اور این نے اسے گھسیٹنے کے لیے اپنا کوٹ اتارا۔ سب نے کوٹ کا ایک بازو تھاما اور این نے پتھر سے منسلک زنجیر کو پکڑ لیا۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے اس زنجیر کو کھینچا، پتھر ٹوٹ گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
این نے کہا کہ انھوں نے پہلے چھوٹا ٹکڑا اٹھایا، جس کا وزن 40 کلو تھا، اور بھاگ پڑے۔ کے نے ان کو دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔
’اسی وقت میں ہیبت زدہ ہو گئی جب میں نے ایک پولیس اہلکار کو دیکھا۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر این نے پتھر کے ساتھ سڑک پار کی تو پولیس والا اسے دیکھ لے گا۔‘
’میں گاڑی جتنا قریب کر سکتی تھی، میں نے کر دی اور این نے پچھلی سیٹ پر پتھر رکھ کر اوپر کوٹ ڈال دیا۔‘
پولیس اہلکار کے آنے کے بعد ان دونوں کو روانہ ہونا پڑا تو گیون اور ایلن کو لگا کہ ان کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ دوسرا حصہ اٹھائے بغیر ہی فرار ہو گئے۔ ان کو علم نہیں تھا کہ این اب ایبی واپس آ رہا تھا۔ دوسری گاڑی کی چابی این کے کوٹ کی جیب سے گر گَئی تھی اس لیے ان کو تاریک چرچ میں اسے ڈھونڈنے واپس جانا پڑا۔
خوش قسمتی سے ان کا پیر چابی پر پڑا جو دروازے کے پاس ہی گری ہوئی تھی۔ لیکن اب پتھر کے بڑے ٹکڑے کو گاڑی کی ڈگی تک پہنچانے کے لیے این اکیلے رہ چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب تک وہ ایبی سے نکلے، صبح ہو چکی تھی۔ ان کو گیون اور ایلن تھوڑی ہی دور سڑک پر چلتے ہوئے نظر آ گئے۔
انھوں نے پتھر کا بڑا ٹکڑا کینٹ میں روچسٹر کے قریب کھلے میدان میں دفن کر دیا۔ کے نے چھوٹا ٹکڑا اپنی ایک دوست کے گھر رکھوا دیا جہاں یہ برمنگھم کے ایک گیراج میں موجود رہا۔
جب اس چوری کا پتہ چلا تو بین الاقوامی سطح پر سنسنی پھیل گئی اور سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے درمیان سرحد کو 400 سال میں پہلی بار بند کر دیا گیا۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے درست اندازہ لگایا کہ چوری شدہ پتھر سکاٹ لینڈ لے جایا گیا ہے۔ اس لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کار سکاٹ لینڈ بھجوائے گئے۔
این ہیملٹن کے مطابق ان کا ارادہ تھا کہ وہ پتھر کو اس وقت تک دفن رہنے دیں گے جب تک ابتدائی شور شرابہ جاری رہے گا۔ تاہم ان کو یہ پریشانی لاحق ہو گئی کہ 600 سال سے ایک ہی جگہ پر پڑے پتھر پر سردی کے کیا اثرات ہوں گے۔
نئے سال کی شام وہ ایلن اور دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ پتھر کے بڑے ٹکڑے کو نکالنے کے لیے کینٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ جب وہ روچسٹر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ اس مقام پر مسافر کیمپنگ کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ان مسافروں کو قائل کیا اور ان کی مدد سے پتھر اپنی گاڑی تک منتقل بھی کر دیا۔
آخر کار وہ سکاٹ لینڈ پہنچے جہاں اس پتھر کو سکاٹش کووننٹ ایسوسی ایشن کے اراکین کے حوالے کیا گیا جو سکاٹ لینڈ کی علیحدہ پارلیمان کی تحریک چلا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
یہ بھی پڑھیے
این ہیملٹن اس سے پیچھا چھڑا کر خوش تھے کیوں کہ ان پر شبہ کیا جانے لگا تھا۔ تفتیش کاروں نے پتہ چلا لیا تھا کہ ہیملٹن نے چوری سے قبل گلاسگو لائبریری سے مقدر کے پتھر سے متعلق ہر کتاب نکلوائی تھی۔
تاہم پتھر کا اہم حصہ اب ایک فیکٹری میں پھٹوں کے نیچے چھپا دیا گیا تھا۔ بعد میں اسے سٹرلنگ میں ایک دور دراز چرچ منتقل کر دیا گیا۔ برمنگھم سے پتھر کا دوسرا ٹکڑا واپس لا کر، دونوں کو ایک ماہر کی مدد سے جوڑ دیا گیا۔
چند ماہ بعد سکاٹس کووننٹ ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا کہ اب پتھر لوٹانے کا وقت آ چکا ہے کیونکہ اس ڈکیتی کا مقصد حاصل کر لیا گیا تھا جو خود مختار حکومت کے مقصد کی تشہیر تھی۔
انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس پتھر کو اس چرچ کے کھنڈرات کے پاس رکھ دیا جائے گا جہاں 1320 میں سکاٹ لیڈ کی آزادی کا مشہور اعلان ہوا تھا۔
11 اپریل 1951 کو یہ پتھر لندن واپس لے جا کر ویسٹ منسٹر ایبی میں رکھ دیا گیا۔ دو سال بعد 1953 میں بادشاہ ایڈورڈ اول کے تخت اور اس کے نیچے موجود مقدر کے پتھر کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی تھی جب ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی کی رسم ٹی وی پر دکھائی جا رہی تھی۔
40 سال بعد 1996 میں اس وقت کے وزیر اعظم جان میجر اور ملکہ الزبتھ دوم نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ یہ پتھر سکاٹ لینڈ کو واپس کر دیا جائے۔ اب یہ پتھر ایڈن برگ کیسل میں موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
آئندہ برسوں میں اسے پرتھ سٹی ہال میوزیم میں ایک نمائش کا حصہ بھی بننا ہے۔ یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ یہ پتھر بادشاہ چارلس سوم کی تاجپوشی کے لیے ایک بار پھر ویسٹ منسٹر میں لوٹے گا۔
این ہیملٹن نے بعد میں وکالت کا پیشہ اپنایا۔ کے میتھسن ویسٹ ہائی لینڈ واپس چلی گئیں۔ وہ مقامی پرائمری سکول میں پڑھاتی تھیں۔ ان کا انتقال 2013 میں ہوا۔ گیون ورنن نے الیکٹرک انجینیئرنگ کی اور پھر 1960 میں کینیڈا چلے گئے۔ ان کا انتقال مارچ 2004 میں ہوا۔ ایلن سٹورٹ نے گلاسگو میں کامیاب کاروبار کیا۔ ان کا انتقال 88 سال کی عمر میں 2019 میں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
ان طلبا کو اس چوری پر کبھی سزا نہیں ہوئی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ این ہیملٹن نے کہا تھا کہ ’ہوم سیکرٹری نے ہاؤس آف کامنز میں بیان دیا تھا کہ یہ معلوم تھا کہ یہ کس نے کیا لیکن ان بیہودہ چوروں کو سزا دینا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔‘
’اس جملے سے میں پوری زندگی محظوظ ہوا۔ اپنے ملک کے لیے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر کچھ کرنا، میرے خیال میں، فخر کی بات ہے۔‘












