آسٹریلیا: بچوں کے جنسی استحصال کا مرتکب جس کے متعلق کہا گیا ’وہ تو ایسا ہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAbc news
- مصنف, ٹفنی ٹرن بُل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سڈنی
’جتنے لوگ بھی مجھے بچپن سے جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں بہت خوش مزاج، متحرک اور لاابالی شخصیت کی مالک ہوا کرتی تھی۔‘
’(مگر) مجھے اپنے بچپن کی شخصیت یاد نہیں ہے۔ میں نہیں جانتی کہ میری شخصیت صدمے کا شکار ہونے سے پہلے یعنی خوشی کے دور میں کیسی ہوا کرتی تھی۔‘
11 برس کی عمر میں ٹفنی سکیگز کو آسٹریلیا کی ریاست تسمانیہ میں اُن سے 47 برس بڑے ایک شخص نے ورغلا کر ریپ کیا تھا۔
وہ 47 سالہ شخص طب کے شعبے سے منسلک تھے اور مقامی آبادی میں اُنھیں ایک شفیق شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ٹفنی بتاتی ہیں کہ اُسی 47 سالہ شخص نے اُن کے والد کی وفات سے ان کی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا بھی پُر کیا تھا۔
ٹفنی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ’میں اُنھیں ہیرو کے طور پر دیکھتی تھی۔ وہ مجھے ایسا محسوس کرواتے جیسے یہ دنیا صرف میری ہے۔‘
ٹفنی سکیگز وہ واحد بچی نہیں تھیں جنھیں جیمز جیفری گریفن نامی اس 47 سالہ شخص نے اس طرح ورغلایا تھا۔ چار دہائیوں کے عرصے میں اُنھوں نے دھڑلے سے کئی لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا اور ان کا فائدہ اٹھایا۔
اُن میں سے ایک ان کے دوست اور ساتھی کی بیٹی بھی تھیں۔ ایک اور ان کی رشتے دار تھیں جنھیں نشہ آور چیز دے کر ریپ کرنے کے بارے میں تو اُنھوں نے انٹرنیٹ پر فخریہ انداز میں بتایا تھا۔ کئی وہ خواتین تھیں جو ان سے علاج کروانے کی غرض سے آتی تھیں۔ ایک اور معذور لڑکی بھی قوت گویائی سے محروم تھی۔
گریفن نے واقعتاً کتنے لوگوں کا استحصال کیا یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس شخص کے کچھ متاثرین اب تک سامنے نہیں آئے ہیں۔
مگر یہ کیسے ہونے دیا گیا؟
گریفن کے خلاف پہلے مرتبہ اس نوعیت کا الزام 1980 کی دہائی میں سامنے آیا جب وہ 30 کے پیٹے میں تھے۔ مگر ان کی گرفتاری ان ابتدائی الزامات کے 30 سال بعد ممکن ہو پائی۔
اس دوران اُنھوں نے لانسیسٹن جنرل ہسپتال کے پیڈیاٹرک وارڈ میں نرس اور جونیئر سپورٹنگ ٹیمز کے مساج تھیراپسٹ کے طور پر اپنے کردار کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہAbc news
کئی برسوں تک متاثرہ بچوں کے والدین، اُن کے ساتھیوں اور یہاں تک کہ اجنبیوں نے بھی حکام کو آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ گریفن سے لوگوں کو کیا خطرہ ہے۔ مگر سنہ 2019 میں جب سکیگز نے اپنے استحصال کے بارے میں بات کی تب ہی پولیس نے پوری طرح اس بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا۔
رواں سال اکتوبر تک 69 برس کے ہو چکے گریفن پر چار بچوں کے استحصال کا باقاعدہ الزام عائد کیا جا چکا تھا۔ یہ الزام عائد ہونے کے چند ہفتوں بعد انھوں نے خودکشی کر لی۔
اب تسمانیہ کی ایک انکوائری میں یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کیسے اتنی ساری شکایات اور خطرے کی علامات کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔
رواں ماہ ختم ہونے والی عوامی سماعتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گریفن کو ان کے پریشان کُن رویے کے بارے میں پہلی بار سنہ 2004 میں تحریری طور پر خبردار کیا گیا تھا۔
مگر ان کا یہ رویہ مزید خراب ہی ہوا اور شکایات بڑھتی گئیں۔ ان میں یہ اطلاعات بھی تھیں کہ وہ ہسپتال میں ایک کمسن لڑکی کو گلے لگا کر پیار کر رہے تھے، مریضوں کو اپنا فون نمبر دے رہے تھے اور اُنھوں نے ایک 11 سالہ بچے کو پیشانی پر ’شہوت انگیز بوسہ‘ دیا تھا۔
اُنھیں خبردار بھی کیا گیا اور اُن کی کونسلنگ بھی کی گئی پر وہ بچوں تک اپنی رسائی قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ سب سے غیر معمولی بات یہ کہ ہسپتال نے اپنے ہی عملے کے ایک رکن کے اس انکشاف کو نظرانداز کیا کہ گریفن نے سات برس کی عمر سے ہی اُن کو بار بار استحصال کا نشانہ بنایا تھا۔
سنہ 2011 میں سماجی کارکن کائلی پیئرن نے اپنے باس اور ہیومن ریسورس کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد اُنھیں اپنے ایک بچے کے ساتھ پیڈیاٹرک وارڈ میں پوری رات جاگ کر گزارنی پڑی کیونکہ وہ بچے کو اکیلا چھوڑنے سے خوفزدہ تھیں۔
اُنھوں نے بچوں کے جنسی استحصال پر ادارہ جاتی ردِ عمل کی تحقیقات کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن آف انکوائری کو بتایا کہ ’مجھے لگا کہ یہ کتنا غیر منصفانہ ہے کہ میں اپنے بچے کا تحفظ کر سکتی ہوں مگر اس پورے وارڈ میں کسی اور کے پاس یہ معلومات نہیں تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTasmanian health department
سٹاف کے دیگر ارکان نے بھی اس بارے میں خاموشی توڑی۔ ایک سینیئر نرس نے انکوائری افسران کو بتایا کہ اُنھوں نے حتیٰ الامکان کوشش کی کہ نوجوان خواتین مریض دوسری نرسز کے پاس بھیجیں کیونکہ گریفن کے بارے میں ان کے کسی بھی خدشے پر کسی نے کان نہیں دھرے۔
ان کے ایک اور ساتھی وِل گورڈن نے باضابطہ طور پر گریفن کی شکایت کی مگر ان کی شکایت کو کسی متاثرہ لڑکی سے بات کیے بغیر ہی ’بے بنیاد‘ قرار دے دیا گیا۔
گورڈن کہتے ہیں کہ گریفن کے رویے کو بار بار ٹالا جاتا رہا۔ ’ایسے کہا جاتا کہ 'جم تو جم ہے ناں۔ وہ ایسا ہی ہے۔‘
ہسپتال نے اُنھیں صرف تب معطل کیا جب پولیس نے بتایا کہ گریفن کے پاس سے ہسپتال کے اندر بچوں کے استحصال کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔
سینیئر سٹاف ارکان نے انکوائری کو بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں خوف اور پردہ داری کا ماحول تھا۔
کچھ ارکان نے کہا کہ انھیں ورغلانے کا رویہ پہچاننے کی تربیت نہیں دی گئی تھی، اطلاع دینے کی ذمہ داری سے آگاہ نہیں تھے، یا انھیں معلوم نہیں تھا کہ اپنی شکایت اوپر تک کیسے پہنچائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس ہسپتال کے منتظم تسمانیہ کے محکمہ صحت کی سربراہ نے حال ہی میں ایک جذباتی معافی مانگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں ثبوت دیکھ کر اور متاثرین سے ’ہمدردی اور انسانیت کے فقدان‘ کو دیکھ کر ’ذاتی طور پر دھچکا‘ لگا ہے۔
کیتھرین مورگن وکس نے کہا: ’میرے الفاظ متاثر ہونے والے سب لوگوں کے زخموں کو نہیں بھر سکیں گے نہ ہی میرے الفاظ سے ان کو تسکین پہنچے گی جنھیں کبھی نہیں پتا چلے گا کہ وہ یا ان کے بچے بھی متاثر تھے۔ مگر میں پوری کوشش کروں گی کہ ماضی کی غلطیاں سدھارنے کے لیے (محکمے کی) قیادت کروں۔‘
پولیس اور دیگر حکام کی ناکامی
پولیس کو کم از کم پانچ مختلف مواقع پر گریفن کے رویے کے بارے میں اطلاع دی جا چکی تھی۔
سنہ 2000 میں گریفن سے لیپ ٹاپ خریدنے والے ایک شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس میں ممکنہ طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ہے مگر ان کی ای میل کو نظرانداز کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مذکورہ شخص نے ایک مرتبہ پھر اگلے برس پولیس سے رابطہ کیا اور لکھا: ’جو مجھے ملا ہے، اس کو دیکھنے کے بعد مجھے امید ہے کہ وہ تسمانیہ میں بچوں کے وارڈ میں بغیر کسی نگرانی کے کام کر رہا ہے۔‘
پولیس نے لیپ ٹاپ کی تلاشی لی اور پایا کہ اس میں بچوں کی بکنی پہنے جو تصاویر تھیں وہ ’اخلاقی‘ طور پر تو تشویشناک تھیں لیکن قانونی تھیں۔ چنانچہ کوئی مزید تحقیقات نہیں کی گئیں۔
پھر سنہ 2009 میں ایک شخص نے اطلاع دی کہ وہ ایک مشہور فیری پر طبی عملے کے رکن کے طور پر نوجوان لڑکیوں کی سکرٹ کے نیچے سے تصاویر لے رہے ہیں۔ پولیس نے ان کے گھر کی تلاشی لی اور پایا کہ وہ اپنی انٹرنیٹ کی براؤزنگ ہسٹری روزانہ صاف کر دیتے تھے اور ان کے پاس نوجوان لڑکیوں کی ڈھیروں تصاویر موجود تھیں۔
اس معاملے کو بھی انٹیلیجنس کے پاس بھیج دیا گیا اور کوئی مزید ایکشن نہیں لیا گیا۔
بعد کے برسوں میں حکام کو بتایا گیا کہ دو لوگوں نے بچپن میں گریفن کی جانب سے استحصال کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف کیا ہے اور دیگر فکرمند افراد مثلاً ٹفنی سکیگز کی والدہ نے شکایات درج کروائی ہیں۔
دونوں ہی معاملات میں بچوں کے تحفظ کے اہلکار اور پولیس قابلِ اطمینان تحقیقات کرنے میں ناکام رہے۔
پھر سنہ 2015 میں پولیس کو بتایا گیا کہ گریفن انٹرنیٹ پر بچوں کے استحصال کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اُنھیں اس معاملے پر مزید معلومات درکار تھیں مگر جب اس شخص نے ثبوت فراہم کیے تو پولیس نے اس کی ای میل کھولی تک نہیں۔
تسمانیہ کے پولیس کمشنر نے گذشتہ برس گریفن کے متاثرین سے معافی مانگی اور کہا کہ ’ہمارے سسٹم اور ہمارے تحقیقی مراحل کی خامیوں‘ نے ان لوگوں کو مایوس کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAbc news
قومی سطح پر ناکامی
آسٹریلیا ایک طویل عرصے سے بچوں کے جنسی استحصال کے معاملے میں الجھا ہوا ہے۔ متاثرین کی خوف ناک کہانیاں سامنے آنے کے بعد سنہ 2013 میں ایک قومی انکوائری شروع ہوئی جس میں جو ادارہ جاتی ناکامیاں سامنے آئیں انھوں نے حیران کر دیا۔
رائل کمیشن کے بارے میں سوچا جا رہا تھا کہ یہ استحصال سے نمٹنے میں آسٹریلیا کی مدد کرے گا مگر کئی برسوں بعد ٹفنی سکیگز کے معاملے نے حکام کو ایک مرتبہ پھر اپنا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ انکوائری اپنی سفارشات پیش کرے گی اور شاید کچھ افراد کے خلاف اسے انکشافات ملیں جن کے بارے میں یہ تحقیقاتی اداروں کو مطلع کر دے گی۔
لانسیسٹن جنرل ہسپتال کے ایک از سرِ نو جائزے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور پولیس نے اپنے اقدامات پر نظرِ ثانی کرنے کے بعد تبدیلیاں متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔
مگر اب 25 سالہ ٹفنی سکیگز کہتی ہیں کہ بچوں کے تحفظ سے منسلک تمام سسٹمز میں بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ اُنھیں ہر کسی نے مایوس کیا ہے۔
’کیا ان میں سے کسی نے ضروری کام کیے؟ بالکل بھی نہیں۔ میں ساری زندگی جس فقرے سے نفرت کروں گی وہ یہ جملہ ہے کہ ’جم تو ایسا ہی ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اپنی حفاظت کرنا کبھی بھی کسی 11 برس کے بچے یا کسی اور بچے کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے، اور یہ آج کے دن تک ایسا ہی ہے۔‘









