سیمون بائلز: ’ہمارے اداروں نے ہمارے جنسی استحصال پر پردہ ڈالا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی جمناسٹ سیمون بائلز نے ملک کی سینیٹ کے سامنے کھلاڑیوں کا جنسی استحصال کرنے کے جرم میں سزا یافتہ سابق ٹیم ڈاکٹر لیری نیصر کے ہاتھوں ہونے والی زیادتی کے بارے میں گواہی دی ہے۔
ایک اور سابق کھلاڑی ایلے ریزمین اور میکالیا مارونے بھی ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے ساتھ سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں۔ امریکی سینیٹ کی کمیٹی امریکی جمناسٹک ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری نیصر کی تحقیقات میں ایف بی آئی کی کوتاہیوںکا جائزہ لے رہی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی جمناسٹک ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری نصر خواتین کھلاڑیوں کا جنسی استحصال کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
امریکی کی سب سے زیادہ اولپمکس تمغے حاصل کرنے والی جمناسٹ سیمونے بائلز کا کہنا تھا کہ 'میں لیری نصر پر الزام لگاتی ہوں اور اس پورے نظام کو ذمہ دار قرار دیتی ہوں جو اسے جنسی استحصال کرنے کی اجازت دیتا رہا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر آپ شکاری کو بچوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیں گے تو اس کے نتائج سنگین اور فوری ہوں گے۔'
امریکی جمناسٹکس میں پہلی مرتبہ اپنے جنسی استحصال کے بارے میں رپورٹ کرنے والی جمناسٹ میگی نکولز نے بھی اس کی گواہی دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان خواتین جمناسٹ نے امریکی سینیٹ میں کیا کہا؟
بدھ کے روز امریکی سینیٹ میں پیشی کے دوران گواہی دیتے ہوئے چار خواتین نے سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کو بتایا کہ انھوں نے اس جنسی استحصال کے باعث اور بعد میں جس طرح اس معاملے سے نمٹا گیا 'بہت کچھ سہا اور وہ اب بھی سہہ رہی ہیں۔'
چار مرتبہ اولمپکس میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والی امریکی جمناسٹ سائمونے بائلز نے، جن کا شمار کھلیوں کی دنیا میں ایک مشہور کھلاڑی کے طور پر ہوتا ہے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس میں ملوث ایجنٹوں پر مقدمہ چلایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سوال کیا کہ 'اس چھوٹی لڑکی کی کیا حیثیت ہے؟'
ایلے ریزمین نے جنھوں نے سنہ 2012 اور سنہ 2016 کے اولمپکس مقابلوں میں امریکی جمناسٹکس کی ٹیم کی بطور کپتان نمائندگی کی تھی سینیٹ کمیٹی کے سامنے کہا کہ وہ اپنے جنسی استحصال کی پہلی رپورٹ کرنے کے چھ برس بعد بھی 'چند بنیادی جوابات اور جوابدہی کے لیے لڑ رہی ہیں۔'
انھوں نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہو کہا کہ 'گزشتہ چند برس کے دوران یہ افسوسناک طور پر واضح ہوا ہے کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والوں پر اس سے نمٹنے کے طریقہ کار کا کیا اثر پڑتا ہے۔'
انھوں نے امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کی سنگین خامیوں کا ازالہ نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں کئی اور خواتین کے لیے یہ دوبارہ ایک 'ڈراؤنا خواب' ہوگا۔
2012 کے لندن اولمپکس مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی میکالیا مارونے نے ایف بی آئی کی جانب سے بیان لینے کے تجربے کے بارے میں کہا کہ ان کی تکلیف پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے سینیٹروں کو بتایا کہ 'انھوں نے میرے بیان کے بارے میں جھوٹ اور من گھڑت باتیں بنا کر بچوں کا جنسی استحصال کرنے والی ایک سیریل مجرم کو بچایا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جنسی استحصال کے بارے میں رپورٹ کرنےکا کیا فائدہ اگر ہماری اپنے ایف بی آئی نے اس کی رپورٹ کو درازوں میں دفن کر دینا ہے۔'
یہ سماعت کیوں کی جا رہی ہے؟
یہ چاروں خواتین ان دو سو سے زائد ایتھلیٹس میں شامل تھیں جنھوں نے سنہ 2018 میں ایک امریکی عدالت کے سامنے امریکہ کی قومی جمناسٹکس ٹیم کے سپورٹس ڈاکٹر لیری نصر کی جانب سے جنسی استحصال کے مقدمے میں بیانات دیے تھے۔
لیری نصر پر امریکی جمناسٹکس کی قومی ٹیم اور مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 330 سے زائد خواتین اور لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کا الزام تھا۔
اس کیس میں طویل انتظار کے بعد ایف بی آئی کی تحقیقاتی رپورٹ رواں برس جولائی میں شائع ہوئی تھی جس میں ایف بی آئی ایجنٹوں کی جانب سے متعدد غلطیاں، تاخیر اور پردہ پوشی کی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کیس کی پہلی بار شکایت کے بعد بھی لیری نصر کی زیادتیاں کئی ماہ تک جاری رہی تھی۔
محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل کی 119 صفحات پر مشتمل رپورٹ سے یہ پتہ چلا ہے کہ نصر کے خلاف الزامات کی سنگینی کے باوجود انڈیانا پولیس میں ایف بی آئی کا فیلڈ آفس اس پر کارروائی کرنے میں سست روی کا شکار تھا۔
ایف بی آئی نے ابتدائی طور پر صرف مارونے کا بیان لیا تھا جبکہ دوسری نوجوان خواتین سے بیانات لینے سے انکار کیا تھا جو اپنی جنسی استحصال کی کہانیوں کے ساتھ سامنے آئی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جب ان غلطیوں کی نشاندہی کی گئی تو ایف بی آئی کے دو عہدیداروں نے بیانات کے دوران اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولا۔ ایف بی آئی کے مطابق ان اہلکاروں میں سے ایک کو گزشتہ ہفتے برطرف کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ایف بی آئی کا کیا کہنا ہے؟
ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر راے نے جولائی کی رپورٹ میں بیان کردہ 'قابل مذمت طرز عمل' اور 'بنیادی غلطیوں' پر سینیٹ کمیٹی میں موجود لوگوں سے معذرت کی۔
کرسٹوفر نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے سنہ 2017 میں عہدہ سنبھالا تھا مگر انھوں نے اپنی قیادت میں دوبارہ کسی کیس کو برے طریقے سے نمٹانے کی روک تھام کرنے کا وعدہ کیا۔
انھوں نے اس کوتاہی میں ملوث کو نوکری سے فارغ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دوسرے ایجنٹ کی بھی نشاندہی کی جو انڈیانا پولیس میں فیلڈ آفس کی قیادت کرتا تھا اور وہ بہت عرصہ پہلے ریٹائر ہو چکا تھا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ایجنٹوں نے ایف بی آئی کے ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔
بدھ کے روز بعدازاں ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ محکمہ انصاف کی رپورٹ میں ایف بی آئی کے لیے دی جانے والی تجاویز کی 'حمایت' کرتے ہیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ محکمہ انصاف کو ابھی مزید سوالات کے جوابات دینے ہیں۔









