انسانی سمگلنگ اور جنسی جرائم کے شبہے میں گرفتار یہودی فرقے کے رہنماؤں کی رہائی

،تصویر کا ذریعہRaffi Berg
میکسیکو میں انسانی سمگلنگ اور جنسی جرائم کے شبہے میں گرفتار یہودی فرقے کے رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ان کے وکیل نے کہا کہ دونوں رہنما جو کہ غیر ملکی شہری ہیں کو جمرات کو رات گئے رہا کیا گیا تھا کیونکہ ان کے خلاف ثبوتوں کی کمی تھی۔
اس گروہ کے کم ازکم 20 افراد حکومت کے رہائشی مرکز میں سے فرار ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ ان افراد کو میکسیکو کی پولیس کے ایلیٹ یونٹ نے گذشتہ جمعہ کو چیاپاس ریاست میں تاپاچولا کے شمال میں 11 میل دور جنگل میں قائم کیمپ سے بازیاب کرایا تھا۔
میکسیکو کی پولیس کو گوئٹے مالا کے حکام اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے کچھ سابق ایجنٹوں کی مدد حاصل تھی۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ اس کیمپ میں 26 ارکان تھے جن میں کینیڈا، امریکہ اور گوئٹے مالا سمیت دوہری شہریت رکھنے والے اسرائیلی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA/EFE
اس گروہ کے خلاف کارروائی میں شامل ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جوڑے کو آزاد کرنے کے فیصلے نے ’چھاپے سے پہلے اور اس کے دوران اٹارنی جنرل کے دفتر اور پولیس کی جانب سے کیے گئے متاثر کن اور بے داغ قانونی کام کو نقصان پہنچایا۔‘
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان دو افراد جھنیں 23 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا کی شناخت اسرائیلی اور کینیڈین شہری کی حیثیت سے کروائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے وکیل یارِت جیمینز نے ہسپتانوی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان کے وکیل کو سوفصد یعنی مکمل طور پر بری کیا ہے۔
اس سے قبل یہ خبر ملی تھی کہ انتہا پسند یہودی گروہ لیو طہور کے 20 اراکان اس مرکز سے فرار ہو گئے ہیں جہاں انھیں میکسیکو کے جنگل میں قائم مرکز سے بازیاب کرانے کےبعد رکھا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روائٹر کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بدھ کی رات ہیوکسٹلا کی عمارت سے مرد، خواتین اور بچے باہر نکل رہے ہیں۔
پولیس نے یہ کارروائی کم سن بچوں کی غیر قانونی نقل و حمل کی تفتیش کے دوران یہودی فرقے لیو طہور کے خلاف کی گئی تھی۔ ان بچوں کو جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، اسرائیل میں اپنے گھر والوں کے پاس بھیجا جانا تھا۔
عبرانی زبان میں لیو طہور ’پاک دل‘ کو کہتے ہیں، اور یہ فرقہ اپنے ماننے والوں پر کڑی مذہبی پابندیاں عائد کرتا ہے۔
یہ فرقہ کم عمری میں شادی کی ترغیب دیتا ہے، معمولی خطاؤں پر بچوں کو سخت سزائیں دینے کا حامی ہے اور خواتین اور تین برس کو پہنچ جانے والی لڑکیوں کے لیے پورا جسم ڈھانپ کر رکھنے کو ضروری سمجھتا ہے۔
ان سختیوں کی وجہ سے اس کا نام یہودی طالبان پڑ گیا ہے، جو افغان عوام، خصوصاً خواتین کے ساتھ سخت برتاؤ کرتے ہیں۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گروپ کے ارکان جنگل میں قائم کیمپ سے بازیاب کرائے جانے کے بعد سے اپنی حراست کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس میں ہنگامہ آرائی اور اہلکاروں پر حملہ بھی شامل تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنہری، سرمئی اور سفید لباس میں ملبوس افراد ایک گیٹ پر دو محافظوں کے پاس سے گزرتے ہیں جسے ان کے ایک رکن نے کھول رکھا ہے۔
گارڈز میں سے ایک انہیں پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ اس کوشش میں گر جاتا ہے اور فرار ہونے والے اس کے اوپر سے گذر جاتے ہیں۔ ایک نوجوان پیچھے مڑ کر گرے ہوئے گارڈ کو لات مارتا ہوا نظر آتا ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ کہاں گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہیں ایک لاری میں بٹھا کر گوئٹے مالا کی سرحد کی طرف روانہ کیا گیا، جبکہ نیوز سائٹ ایل ہیرالڈو ڈی میکسیکو نے بتایا کہ وہ کئی میل پیدل چلنے کے بعد رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
لیو طہور فرقہ کے جنگل میں قائم مرکز پر چھاپہ میکسیکو کی ایلیٹ فورس نے مارا جس میں انھیں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق ایجنٹوں اور گوئٹے مالا پولیس کی مدد بھی حاصل تھی۔
کارروائی میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ چھاپے کے دوران بچوں کو گروہ کے باقی ارکان سے فوری طور پر الگ کر دیا گیا کیونکہ حکام کو خطرہ تھا کہ کہیں وہ بچوں کی بازیابی روکنے کی خاطر انھیں جانی نقصان نہ پہنچا دیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مذکورہ فرقہ گوئٹے مالا میں سرگرم رہا تھا جس کے لیے اسرائیلی رضاکاروں نے کئی سفر کیے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر نگرانی شروع کی۔ اس سال جنوری میں فرقے کے 40 سے 50 ارکان نے غیر قانونی طور پر میکسیکو کی سرحد عبور کی اور ایک جنگل میں ڈیرا ڈال لیا۔ اس دوران حکام نے ان کی نگرانی جاری رکھی۔
سنہ 2018 میں گوئٹے مالا میں فرقے کی قیادت پر اغوا کے الزامات اس وقت سامنے آئے جب دو بچوں کو، جنھیں ان کی ماں فرقے کے چنگل سے نکال کر نیو یارک لے گئی تھی، پھر سے اغوا کر لیا گیا۔ انھیں تین ہفتے بعد میکسیکو سے بازیاب کر لیا گیا تھا۔
اس واقعے میں گروہ کے نو ارکان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔ ان میں سے چار کو سزائیں ہو چکی ہیں جن میں فرقے کے بانی نکمین ہلبرانس کا بیٹا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لیو طہور کی بنیاد 1988 میں رِبّی شلوم ہلبرانس نے اسرائیل میں رکھی تھی۔ بعد میں وہ امریکہ چلے گئے۔ 1994 میں انھیں اغوا کے ایک مقدمے میں دو برس کی قید ہوئی۔ سنہ 2017 میں وہ میکسیکو میں ڈوب گئے تھے۔
اس فرقے کے ارکان کی تعداد 350 کے قریب ہے اور مقامی حکام کی نظروں میں آنے کی وجہ سے یہ ایک سے دوسرے ملک منتقل ہوتا رہا ہے۔ اس کے ارکان اسرائیل، امریکہ، مسیڈونیا، میکسیکو اور گوئٹے مالا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ گوئٹے مالا میں اس کے ارکان کی تعداد 70 اور 80 کے درمیان ہے۔
اس فرقے کو انتہائی آرتھوڈاکس کہا جاتا ہے مگر اس کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں اور ایک اسرائیلی عدالت اسے ’خطرناک فرقہ‘ قرار دے چکی ہے۔
اس کے پیشوا مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام کی تردید کرتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے عقائد کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔









