وہ مسئلہ جو امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کو پٹڑی سے اُتار سکتا ہے

برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ، لز ٹرس

،تصویر کا ذریعہPA Media

    • مصنف, گیری او ڈوناہیو
    • عہدہ, نامہ نگار واشنگٹن، بی بی سی نیوز

برطانیہ کے سامنے موجود کئی خارجہ پالیسی چیلنجز میں وائٹ ہاؤس اس کے ساتھ ہو گا مگر ایک مسئلہ ایسا بھی ہے جس پر ان دونوں ممالک میں وسیع خلیج پائی جاتی ہے۔

زیادہ تر امریکیوں سے پوچھیں کہ وہ لِز ٹرس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو شاید وہ آپ کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔

واقعتاً کئی اخبارات یہی سرخیاں شائع کر رہے ہیں کہ ’نئی برطانوی وزیرِ اعظم سے ملیے‘ یا پھر ’لِز ٹرس کون ہیں؟‘

ایسا ان کے پیش رو بورس جانسن کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا تھا، تب بھی نہیں جب وہ وزیرِ اعظم برطانیہ نہیں بنے تھے۔ یہ وہ شخص ہیں جنھیں ایک مرتبہ جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ’جسمانی اور جذباتی نقل‘ قرار دیا تھا۔

مگر اب واشنگٹن میں مقتدر حلقوں کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ برطانیہ کی نئی رہنما اس ’خصوصی تعلق‘ کے لیے مزید کیا کر سکتی ہیں اور کیا وہ ان اہم رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہیں جس کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ سے تعلقات پٹڑی سے اُتر سکتے ہیں؟

ان میں سے سب سے سنگین اور فوری مسئلہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان وہ تعطل ہے جو شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کے معاملے پر موجود ہے جس کی وجہ سے برطانیہ سے شمالی آئرلینڈ جانے والے سامان کے لیے اضافی کسٹمز پڑتال لازم ہے۔

وزیرِ خارجہ کے طور پر لز ٹرس برطانوی حکومت کی یکطرفہ طور پر اس پروٹوکول کے ازسرِ نو تعین کی دھمکیوں میں پیش پیش رہیں حالانکہ یورپی یونین اور امریکہ دونوں ہی اس بات کے خلاف ہیں۔

برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ، لز ٹرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واشنگٹن میں قائم ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں مارگریٹ تھیچر سینٹر فار فریڈم کے ڈائریکٹر نائل گارڈینر کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ لز ٹرس اس معاملے پر کہیں زیادہ ثابت قدم ہوں گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں براہِ راست امریکی صدر کو یہ بتانے سے گھبرائیں گی کہ کیوں امریکہ کو اس معاملے پر برطانیہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔‘

مگر یہ وہ حکمتِ عملی ہے جو ممکنہ طور پر صدر اور اُن کی جماعت کے لیے جھنجھلاہٹ پیدا کر سکتی ہے۔

Presentational grey line

شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کیا ہے؟

  • بریگزٹ سے قبل اس بارڈر کے آر پار چیزوں کی ترسیل آسان تھی کیونکہ دونوں ہی اطراف یورپی یونین کے قوانین کا اطلاق ہوتا تھا
  • بریگزٹ کے بعد ایک نئے سسٹم کی ضرورت تھی کیونکہ جمہوریہ آئرلینڈ یورپی یونین میں ہے مگر شمالی آئرلینڈ نہیں
  • برطانیہ اور یورپی یونین نے بریگزٹ معاہدے کے حصے کے طور پر شمالی آئرلینڈ پروٹوکول پر دستخط کیے
  • پروٹوکول میں طے پایا گیا تھا کہ سامان کی پڑتال آئرش سرحد کے بجائے شمالی آئرلینڈ اور برطانیہ کی سرحد پر ہو گی
  • اس سے شمالی اور جنوبی آئرلینڈ کے درمیان ایک ٹھوس سرحد کے دوبارہ قیام کے خدشات دور کیے گیے
  • مگر یونینسٹ جماعتیں اس سے خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے برطانیہ میں شمالی آئرلینڈ کی حیثیت کم ہوتی ہے
  • ٹرس نے ایسی قانون سازی کرنے کی تجویز دی ہے جو اصل منصوبے پر سبقت لے جائے گی
Presentational grey line

جو بائیڈن کو اپنی آئرش جڑوں پر بہت فخر ہے اور گڈ فرائیڈے امن معاہدے کے لیے جو بھی چیز خطرہ بنے وہ کانگریس میں موجود ڈیموکریٹس کے لیے قابلِ قبول نہیں جن کا ماننا ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں سیاسی تشدد کے خاتمے میں امریکہ کا کردار کلیدی تھا۔

گذشتہ ہفتے ڈاؤننگ سٹریٹ اور وائٹ ہاؤس نے اعتراف کیا کہ اس حوالے سے کچھ بات چیت ہوئی ہے۔

مگر بائیڈن انتظامیہ نے اس حوالے سے ہونے والی فون کال کے بارے میں کہا کہ صرف ’بیلفاسٹ (گڈ فرائیڈے) معاہدے کے تحفظ کی اہمیت‘ پر بات نہیں ہوئی بلکہ ’یورپی یونین کے ساتھ شمالی آئرلینڈ پروٹوکول پر ایک مذاکراتی سمجھوتے کے حصول کی اہمیت‘ پر بھی بات ہوئی ہے۔

تاہم ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس کال کے بارے میں یورپی یونین سے بات چیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ، لز ٹرس

،تصویر کا ذریعہPA Media

ڈیموکریٹس کے لیے اس معاملے کی اہمیت کو لز ٹرس سمجھ سکتی ہیں کیونکہ ان میں سے کچھ نے رواں سال ان کے بطور وزیرِ خارجہ واشنگٹن کے دورے میں اُنھیں براہِ راست اور سختی سے بھی اپنے مؤقف سے آگاہ کیا تھا۔

ان میں سے ایک میساچوسیٹس کے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس بل کیٹنگ تھے جو کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے امور خارجہ (یورپ) کے سربراہ ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ مایوس کن ہوتا ہے جب کوئی جمہوریت ایک بین الاقوامی معاہدے کی شریک بنتی ہے، اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ معاہدہ تحریر کرتی ہے، اور پھر اسے منسوخ کر دیتی ہے۔ یہ مشکل کام ہے۔‘

لندن کے لیے ناخوشگوار بات یہ ہے کہ شمالی آئرلینڈ پروٹوکول پر اس کا مؤقف کئی امریکی ڈیموکریٹس کے ذہنوں میں ایک براہِ راست امریکی اور برطانوی تجارتی معاہدے سے منسلک ہو گیا ہے۔

جب لِز ٹرس واشنگٹن میں تھیں تو بل کیٹنگ اور کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی نے اُنھیں بتایا کہ بریگزٹ کے اہم مقصد یعنی تجارتی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات نہیں شروع ہو پائیں گے اگر برطانیہ نے یکطرفہ طور پر تبدیلیاں کیں۔

کانگریس رکن بل کیٹنگ نے کہا: ’اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور یہ واضح طور پر بتایا جا چکا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات اس مسئلے کی وجہ سے تعطل کے شکار ہو جائیں گے۔‘

اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کی ممتاز فیلو فرانسس برویل کا بھی یہی مؤقف ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر برطانیہ نے یکطرفہ طور پر تبدیلی کی تو لندن اور واشنگٹن کے تعلقات میں سردمہری پیدا ہو گی اور باہمی دوروں میں بھی کمی آئے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ برطانوی تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

Presentational grey line

لِز ٹرس کون ہیں

  • سابق وزیرِ خارجہ 47 سال کی ہیں اور ان کی دو بیٹیاں ہیں
  • وہ ایک بائیں بازو کے نظریات کے حامل گھرانے میں پلی بڑھیں مگر جوان ہونے پر ان کا جھکاؤ قدامت پسندی کی طرف ہو گیا
  • اُنھوں نے سنہ 2016 میں بریگزٹ کے معاملے پر ریفرینڈم میں یورپی یونین سے ملحق رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا مگر ووٹنگ کے بعد اُن کا مؤقف بدل گیا اور وہ اخراج کے حق میں ہو گئیں
  • اُنھوں نے وزارتِ عظمیٰ کی مہم کے دوران ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کی
  • لز ٹرس نے اخراجاتِ زندگی میں اضافے سے نمٹنے کے لیے 150 ارب پاؤنڈ کے ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے
Presentational grey line

کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت کی عدم موجودگی میں لِز ٹرس نے بطور وزیرِ تجارت انفرادی امریکی ریاستوں کے ساتھ کئی تجارتی معاہدے کیے۔

مگر فرانسس برویل کہتی ہیں کہ کوئی بھی امریکی ریاست ٹیرف اور تجارتی رکاوٹوں کو ازخود دور نہیں کر سکتی۔

نائل گارڈینر کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے بعد اگر ریپبلکنز نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی تو معاہدے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کئی ریپبلکن سیاست دان معاہدے کے حامی ہیں اور ان میں مچ میکونل بھی شامل ہیں جو سینیٹ میں اکثریت کے قائد بھی بن سکتے ہیں۔‘

ایک ریپبلکن سینیٹر روب پورٹمین جنھوں نے تجارتی معاہدے کے حوالے سے قانون سازی میں پیش رفت کی کوشش کی ہے، اسی خیال کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے تعلقات بہتر ہوں گے اور امریکی حکومت کی اقتصادی سبقت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پر اگر تجارت کے حوالے سے ڈاؤننگ سٹریٹ اور وائٹ ہاؤس کے درمیان عدم اتفاق ہے تو دونوں کے درمیان دفاع اور انٹیلیجنس کے معاملات پر قریبی تعلقات کو آگے بڑھانے پر اتفاق بھی ہے۔

برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ، لز ٹرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور اس کا واضح اشارہ حال ہی میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوزوں کے ایک معاہدہ ہے جسے ’آکس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ کے درمیان فائیو آئیز نامی انیٹیلیجنس معاہدہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔

فرانسس برویل کہتی ہیں کہ ’یہ چیزیں اس تعلق کی بنیاد ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ان شعبوں میں ضروری نہیں کہ صدر اور وزیرِ اعظم مکمل طور پر ایک دوسرے کے ’ہم خیال‘ ہوں۔

اس کے علاوہ ان کے نزدیک لب و لہجے میں بھی تبدیلی آئے گی کیونکہ لِز ٹرس ذاتی تعلقات میں تھوڑی زیادہ جارح ہو جاتی ہیں۔

ان کا اور مارگریٹ تھیچر کا موازنہ نہ کرنا ممکن نہیں مگر ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے نائل گارڈینر نہیں سمجھتے کہ تھیچر اور رونالڈ ریگن کے تعلقات جیسا تعلق دوبارہ واپس آئے گا۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’اگلے چند برسوں میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ ہونے والی ہے کیونکہ امریکہ کے صدر ایسے ہیں جو فطرتاً بہت برطانوی حامی نہیں ہیں۔‘

مگر صدر بائیڈن کے سامنے موجود دو بڑے خارجہ پالیسی چیلنجز یوکرین اور چین لندن اور واشنگٹن کے لیے مشترکہ دلچسپی اور تعاون کے باعث ہو سکتے ہیں۔

لز ٹرس کا چین کے حوالے سے بورس جانسن کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ مؤقف ہے جنھوں نے ایک مرتبہ خود کو چین کا محب قرار دیا تھا۔ وہ اس معاملے پر صدر جو بائیڈن کی ہم خیال ہوں گی جنھوں نے بالخصوص سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور تائیوان کے حوالے سے بھی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ، لز ٹرس

،تصویر کا ذریعہUK Government

اور یوکرین پر بھی برطانیہ کی حکمتِ عملی کی بائیڈن انتظامیہ میں تعریف کی جا رہی ہے حالانکہ ان اعترافات میں کچھ حد تک فرق ضرور ہے۔

واشنگٹن کے نزدیک یہ جنگ اگلے کئی برسوں تک جاری رہے گی اور صدر بائیڈن کی جانب سے روس میں حکومت کی تبدیلی کے غیر رسمی بیانات سے اس نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ تاہم لز ٹرس ولادیمیر پوتن کی شکست کی بات کرتی ہیں۔

مگر فی الوقت یہ حکمتِ عملی ایک دوسرے سے قریبی ہم آہنگی رکھتی ہے، خاص طور پر یوکرین کو ہلاکت خیز ہتھیاروں کی فراہمی برقرار رکھنے اور تیل کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے پر یہ ممالک متفق ہیں تاکہ روس کو اپنے تیل کے لیے زیادہ قیمت وصول کرنے سے روکا جا سکے۔

لندن اور واشنگٹن میں ہر نیا رہنما اس ’خصوصی تعلقات‘ کو نیا ڈھنگ دیتا ہے۔ اس کی گہرائی کم زیادہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی حدود وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔

ثقافتی، تاریخی اور لسانی تعلقات اہمیت کے حامل ضرور ہیں مگر جدید دنیا میں جذباتیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔