شمالی کوریا اب کون سے ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کے تجربات کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا نے ایک نیا قانون منظور کرتے ہوئے خود کو جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست قرار دیا ہے جس میں اپنے دفاع کے لیے پیشگی حملے کے حق کو شامل کیا گیا ہے۔
ملک کے رہنما کم جونگ ان نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے حوالے سے کسی بھی بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
شمالی کوریا کے پاس کون سے جوہری ہتھیار ہیں؟
شمالی کوریا نے آخری مرتبہ سنہ 2017 میں جوہری بم کا تجربہ کیا تھا۔ پنگائی ری ٹیسٹ سائٹ پر ہونے والے دھماکے کی طاقت کا اندازہ 100-370 کلوٹن کے درمیان لگایا گیا تھا۔
100 کلو ٹن کا بم 1945 میں ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے چھ گنا زیادہ طاقتور تصور کیا جاتا ہے۔
شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کی پہلی تھرمونیوکلیئر ڈیوائس ہے جو ہر قسم کے جوہری ہتھیاروں میں سب سے زیادہ طاقتور تصور کی جاتی ہے۔
چیتھم ہاؤس کے ایک ریسرچ فیلو جوزف برن کے مطابق شمالی کوریا اسی قسم کی دھماکہ خیز طاقت والے ایک چھوٹی قسم کے جوہری میزائل کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہ اب ایک نئی قسم کی صلاحیت کو جانچ رہے ہیں۔ ایک چھوٹا میزائل جسے کم فاصلے تک نشانہ بنانے والے میزائلوں کی رینج پر شامل کیا جا سکتا ہے۔‘


جوہری تجربہ کس مقام پر ہو سکتا ہے؟
اس سے قبل پنگائی ری میں چھ زیر زمین تجربات کیے جا چکے ہیں۔ تاہم سنہ 2018 میں شمالی کوریا نے کہا تھا کہ وہ جوہری صلاحتیں حاصل کر چکا ہے لہذا اب اس سائٹ کو بند کر دے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی میں سائٹ میں موجود کچھ سرنگوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ تاہم شمالی کوریا نے بین الاقوامی ماہرین کو اس بات کی تصدیق کے لیے مدعو نہیں کیا کہ آیا اس سائٹ کو استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
رواں برس کے آغاز میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پنگائی ری کی تزئین کا کام شروع ہو چکا ہے۔
اس سائٹ پر مستقبل میں کوئی بھی جوہری تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گا۔



شمالی کوریا نے اپنے جوہری ری ایکٹر کو دوبارہ فعال کر لیا ہے
سنہ 2018 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وعدہ کیا تھا کہ شمالی کوریا جوہری مواد کی افزودگی والی اپنی تمام تر تنصیبات کو تباہ کر دے گا۔
تاہم اقوام متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا نے اس ری ایکٹر کو دوبارہ فعال کر لیا ہے جہاں وہ ہتھیاروں کی شدت والے پلوٹونیم بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے یہ بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام پلوٹونیم کی علیحدگی، یورینیم کی افزودگی اور دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ’مکمل طور پر فعال ہو گیا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔‘

شمالی کوریا کن میزائلوں کا تجربہ کر رہا ہے؟
شمالی کوریا نے اس سال میزائلوں کے 30 سے زیادہ تجربات کیے ہیں۔ ان میں کافی طویل رینج والے میزائل بھی شامل ہیں جو امریکہ میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ان میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ہائپرسونک میزائل شامل ہیں۔
ہائپرسونک میزائل ریڈار سے بچنے کے لیے آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار اور کم اونچائی پر پرواز کرتے ہیں۔
شمالی کوریا جن بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کر رہا ہے ان میں ہاسنگ 14 بھی شامل ہے۔
اس کی رینج 8000 کلومیٹر ہے، تاہم کچھ تحقیقات کے مطابق یہ 10000 کلومیٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ یعنی یہ نیویارک تک پہنچنے کے قابل ہے۔
یہ شمالی کوریا کا پہلا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم ایس) ہے۔


تازہ ترین ہاسنگ 15 میزائل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی رینج 13 ہزار کلومیٹر ہے، یعنی یہ پورے براعظم امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2020 میں،شمالی کوریا نے اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائل ہاسنگ 17 کی رونمائی کی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی رینج 15 ہزار کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہے، یعنی یہ امریکہ میں کسی بھی مقام تک بیلسٹک میزائل لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
ممکنہ طور پر یہ ایک کے بجائے تین یا چار بیلسٹک میزائل لے جا سکتا ہے۔۔۔ یہ صلاحیت کسی قوم کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے میزائلوں کی رونمائی بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک پیغام ہے جو شمال کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مارچ 2021 میں شمالی کوریا نے ایک ایسا میزائل لانچ کیا جسے ’نئی قسم کے ٹیکٹیکل گائیڈڈ پروجیکٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ یہ 2.5 ٹن کا پے لوڈ لے جانے کے قابل ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔
جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن سٹڈیز کے تجزیہ کاروں نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پہلے تجربہ کیے گئے میزائل کے این 23 کا زیادہ بہتر ویرئنٹ ہے۔










