’خدا کا غضب‘ فلسطینی گروپ کے خلاف اسرائیل کا خفیہ آپریشن

سنہ 1972 کے گرمائی اولمپکس کی میزبانی کر کے جرمنی دنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ یہ سنہ 1936 کے ملک سے بہت مختلف ملک ہے جب ایڈولف ہٹلر نے برلن میں ایک متنازع اولمپکس کا آغاز کیا جس میں وہ جرمن ’عظمت‘ کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔

تاہم 50 سال بعد بہت سے لوگوں کو میونخ میں کھیلوں کے مقابلوں کے بجائے اس سانحے کی وجہ سے یہ اولیمپک یاد ہیں جس نے انھیں متاثر کیا تھا۔

اُسی سال 5 ستمبر کو صبح چار بجے فلسطینی انتہا پسند گروپ بلیک ستمبر کے آٹھ مسلح افراد نے تقریباً دو میٹر اونچی تاروں کی باڑ عبور کی اور خاموشی سے میونخ کے اولمپک گاؤں میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے اپارٹمنٹس کی طرف بڑھنے لگے۔

چار بج کر 25 منٹ پر حملہ آوروں نے تالے میں ایک ماسٹر چابی داخل کی اور ایک لابی میں دروازہ کھولا جو اپارٹمنٹس کو جاتی تھی۔

کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد فلسطینی عسکریت پسندوں نے دو کو ہلاک کر دیا اور نو اسرائیلی کھلاڑیوں اور کوچز کو یرغمال بنا لیا۔

حملہ آوروں نے انھیں چھوڑنے کے بدلے اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار 200 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور یرغمالیوں کو شہر کے ایک ہوائی اڈے پر منتقل کر دیا جہاں مغربی جرمن سیکورٹی فورسز نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔

لیکن بچاؤ کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور ایک قتل عام شروع ہو گیا جس میں اسرائیلی اولمپک کمیٹی کے تمام نو ارکان اور مغربی جرمن پولیس کا ایک افسر ہلاک ہو گیا اور آٹھ میں سے پانچ مسلح افراد بھی ہلاک ہو گئے۔

دیگر تین افراد کو، جن کی شناخت عدنان الگاشی، جمال الگاشی اور محمد صفدی کے نام سے ہوئی، جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا۔ لیکن بعد میں جرمنی کے ایک مسافر بردار طیارے لفتھانسا کے اغوا کے بعد تبادلے میں ان تینوں فلسطینیوں کو رہا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

ماہرین کے مطابق رہائی کے بعد ان تینوں افراد کو لیبیا منتقل کر دیا گیا تھا جہاں معمر قذافی نے ان کا ہیرو کے طور پر استقبال کیا۔

اس کے بعد کے مہینوں میں میونخ قتل عام کے انعقاد میں حصہ لینے والے بلیک ستمبر گروپ کے بہت سے ارکان ہلاک ہو گئے۔

یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے اسرائیلی انٹیلی جنس کا ہاتھ تھا، جو ایک خفیہ کارروائی کا حصہ تھا جسے ’خدا کا غضب‘ کہا جاتا ہے۔

حملہ آوروں میں سے صرف ایک جمال الگاشی زندہ بچ سکے اور 90 کی دہائی کے اواخر تک ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اب بھی روپوش رہتے ہیں۔

اسرائیل نے مغربی جرمن حکام پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ ان کھیلوں میں مناسب سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حملے کے اگلے دن بھی کھیل جاری رہے۔ اس سال میڈل ٹیبل پر سوویت یونین کا غلبہ رہا جس نے 50 گولڈ میڈل جیتے جبکہ امریکہ 33 اور مشرقی جرمنی 20 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

’خدا کا غضب‘

اس سانحے کے فوراً بعد اسرائیل کی اس وقت کی وزیر اعظم گولڈا میئر نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے سامنے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اعلان کیا۔

بی بی سی کے صحافی فرگل کین نے 2014 میں شائع ہونے والے اسرائیلی ادارے کے بارے میں ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ گولڈا میئر نے حملے کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے ایک خفیہ کمیٹی قائم کی تھی اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک موساد کو ان کی تلاش اور قتل کا کام سونپا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ 1998 سے 2002 تک موساد کی قیادت کرنے والے ’ایفرائم ہلیوی‘ شو میں وضاحت کرتے ہیں کہ یہ صرف انصاف کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ کارروائی اس طرح کی وارداتوں کا سدباب کرنے کے لیے تھی۔

آپریشن ’خدا کا غضب‘ کے دوران بلیک ستمبر گروپ کے عسکریت پسندوں کو پورے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ستایا گیا جس نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور فلسطینی عوام کی جانب سے کارروائی کا دعویٰ کیا۔

اسرائیل کے معروف جاسوسوں میں سے ایک مائیک ہراری نے اس ’انتقامی مہم‘ کی نگرانی کی جس میں ایک درجن سے زیادہ فلسطینی مارے گئے۔

ابھی تک اس بات پر تنازعہ ہے کہ ان میں سے کتنے دراصل میونخ قتل عام میں ملوث تھے۔

اسرائیلی حملوں میں موساد کے ایجنٹوں کا ایک گروپ، جن میں سے کچھ خواتین کے لباس میں ملبوس تھے، لبنان کے دار الحکومت بیروت کے ساحل پر تارپیڈو کشتیوں سے اترا اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے تین رہنماؤں اور عسکریت پسند گروپ کے دیگر ارکان کو ہلاک کر دیا۔

یہ کارروائی جو ’خدا کا غضب‘ کا حصہ تھی اس میں متعدد لبنانی اور فلسطینی شہری اور دو اسرائیلی ایجنٹ بھی مارے گئے۔

’انتقام‘

کینیڈین مصنف اور صحافی جارج جونس نے 1984 میں اپنی کتاب ’انتقام‘ میں آپریشن ’خدا کا غضب‘ کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ کتاب کا بنیادی ذریعہ موساد کا ایک افسر یوول ابیب ہے جس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس مہم میں حصہ لیا تھا۔

امریکی فلم ساز سٹیون سپیل برگ کی فلم ’میونخ‘ اسی واقعہ سے ماخوذ تھی۔ اس میں بیروت کے ساحل پر حملے سے پہلے اور بعد میں یورپ کے متعدد ممالک میں ہونے والی ہلاکتوں کی فہرست دی گئی ہے۔

جونس کے مطابق 16 اکتوبر 1972 کو فلسطینی مترجم وائل زیویٹر یورپ میں آپریشن ’خدا کا غضب‘ کا پہلا ہدف بنے۔

متعدد ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ موساد کو شبہ تھا کہ زیویٹر روم میں بلیک ستمبر کے سربراہ تھے اور دو اسرائیلی ایجنٹوں نے انھیں اس وقت 11 گولیاں مار کر ہلاک کیا جب وہ اطالوی دارالحکومت میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آیے۔

دوسرا ہدف فرانس میں پی ایل او کے نمائندے محمود ہمشری تھے جنھیں اسرائیل اس ملک میں سیاہ ستمبر کا راہنما سمجھتا تھا۔ آٹھ دسمبر کو ان کے ڈیسک فون کے نیچے بم پھٹنے کے بعد انھیں ایک جان لیوا زخم آیا۔ چند ہفتوں بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

چار ماہ بعد 6 اپریل 1973 کو باسل الکوبیسی کو، جو لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاپولر فرنٹ فار دا لِبریشن آف پیلسٹائن (پی ایف ایل پی) کے رکن تھے، پیرس کی ایک سڑک پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

قتل یہیں ختم نہیں ہوئے۔ قبرص میں پی ایل او کے نمائندے زید موچاسی یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہوٹل کے کمرے میں دھماکے میں ہلاک ہو گئے، جبکہ اس وقت یورپ میں پی ایف ایل پی کے آپریشنز کے سربراہ محمد بودیا پیرس میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مقاصد

یونیورسٹی آف میونخ میں یہودی تاریخ اور ثقافت کے پروفیسر مائیکل برینر نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ آپریشن ’خدا کا غضب‘ کے بنیادی مقاصد متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف دلانا اور دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گا۔

امریکن یونیورسٹی (واشنگٹن ڈی سی) کے سینٹر فار اسرائیل سٹڈیز کے ڈائریکٹر کا مزید کہنا ہے کہ ’دو چیزیں اکٹھی ہوئیں: اولمپک کھیلوں کے دوران جرم کی نوعیت اور جرمن حکام نے تینوں زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں کو گرفتار ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی رہا کر دیا۔‘

برینر بتاتے ہیں کہ یہ قیاس آرائیاں بھی جاری تھیں جو اب بھی باقی ہیں کہ لفتھانسا طیارے کا اغوا جرمنوں کا ایک کھیل تھا یا کم از کم اس نے ان کے لیے فلسطینی عسکریت پسندوں سے چھٹکارا پانے اور انہیں جرمنی سے باہر نکالنے کا موقع فراہم کیا۔

اس نے اپنے ایک اہم مقصد کو پورا کیا تاکہ گروہوں کو بیرون ملک اسرائیلیوں کے خلاف اسی طرح کے حملوں سے روکا جا سکے اور اس نے اسرائیلی عوام کو دکھایا کہ ان کا ملک انصاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن وہ اپنا ’انتقام‘ مکمل کرنے میں بالکل ناکام رہے کیونکہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو حملہ آوروں میں سے تیسرے جمال الگاشی کبھی نہیں مل سکے، جو 1999 میں عارضی طور پر اپنی چھپنے کی جگہ سے نکل کر دستاویزی فلم ’ستمبر میں ایک دن‘ میں نظر آئے، جس میں وہ بھیس بدل کر اور اپنا چہرہ چھپا کر نظر آیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے میونخ میں جو کچھ کیا اس پر فخر ہے کیونکہ اس سے فلسطینیوں کو بے حد مدد ملی۔ عسکریت پسند نے دستاویزی فلم میں کہا کہ میونخ سے پہلے دنیا کو ہماری جدوجہد کا کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن اس دن پوری دنیا میں فلسطین کا نام دہرایا گیا۔

’50 ہولوکوسٹ

اگست میں جرمنی کے دورے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے میونخ قتل عام پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے بجائے جرمن چانسلر اولاف شولز کے ہمراہ برلن میں ایک نیوز کانفرنس میں اسرائیل پر ’50 ہولوکوسٹ‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

محمود عباس نے کہا اسرائیل گزشتہ 70 سال سے آئے دن فلسطینیوں کو قتل کر رہتا ہے۔

جرمن اور اسرائیلی حکومتوں نے ان کی متنازعہ تقریر کی مذمت کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے دعویٰ کیا کہ عباس کی باتیں ’صرف اخلاقی ذلت نہیں بلکہ ایک خوفناک جھوٹ‘ ہیں، خاص طور پر جب سے یہ ’جرمن سرزمین پر‘ بنائے گئے تھے، جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا تھا۔

میونخ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے بلیک ستمبر انتہا پسند گروپ کے عباس کی سیاسی جماعت الفتح کے ساتھ حملے کے وقت روابط تھے۔

ناانصافی کا احساس

مورخ مائیکل برینر کے مطابق میونخ قتل عام کی 50ویں برسی کی یاد کیسے منائی جائے اس بارے میں کافی بحث ہوئی ہے کیونکہ اس قتل عام کے بعد جرمنی نے بحران کو حل کرنے کی کوشش میں ’پیشہ ورانہ مہارت‘ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

برینر کا مزید کہنا ہے کہ ’متاثرین کے اہل خانہ میں اب بھی انصاف سے محرومی کا احساس پایا جاتا ہے۔‘

1972 میں میونخ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی کھلاڑیوں کے لواحقین نے اگست کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ معاوضے کے معاملے پر جرمن حکومت کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے سانحے کی 50ویں سالگرہ کی یاد میں منعقدہ تقریب کا بائیکاٹ کریں گے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے ایک اتھلیٹ کی بیوی اینکی سپیٹزر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم اس وقت تک یادگاری تقریب میں نہیں جائیں گے جب تک جرمنی حقیقی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔‘

متاثرین کے لواحقین نے کہا ہے کہ کھیلوں میں کھلاڑیوں کے لیے ’حفاظت اور تحفظ کی کمی‘ کی وجہ سے معاوضے کی ذمہ داری جرمنی پر عائد ہوتی ہے۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی نے قتل عام کے فورا بعد متاثرین کے اہل خانہ کو تقریباً 20 لاکھ امریکی ڈالر دیے اور 2002 میں اس نے انہیں مزید 30 لاکھ یورو کی امداد دی۔

کئی ہفتوں کے کشیدہ مذاکرات کے بعد بالآخر جرمنی نے گزشتہ بدھ کو قتل عام کی 50ویں سالگرہ سے صرف پانچ دن قبل کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو معاوضے کے طور پر مزید 280 لاکھ یورو (28 ملین ڈالر) دینے پر اتفاق کیا۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے فوری طور پر اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’جرمن حکومت کا اہم قدم‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے ’خدا کا غضب‘ کے نام سے آپریشن کرنے کی تردید کی ہے لیکن برینر کا کہنا ہے کہ یہ موقف اسی طرح کا ہے جیسا کہ وہ جوہری ہتھیار رکھنے کے بارے میں اختیار کیے ہوئے ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل نے جوہری ہتھیار بنا رکھے ہیں اور اس کے پاس ہیں لیکن وہ باضابطہ طور پر اس کا اعتراف نہیں کرتا۔

برینر کہتے ہیں، ’تاہم، وہ جانتے ہیں کہ ہر کوئی جانتا ہے۔

’یہ ایک کھیل ہے جو ان کے مفاد میں ہے۔‘