آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیراکتر ٹی بی 2 ڈرون: جدید جنگوں میں مقبولیت کے بعد ترک ساختہ ڈرون کی افریقہ میں بھی دھوم کیوں مچ گئی ہے؟
حالیہ برس میں دنیا کے مختلف حصوں میں دوران جنگ انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت ہونے کی وجہ سے ترک ساختہ ڈرونز بہت مقبول ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کار پال میلی لکھتے ہیں کہ افریقی ریاستیں ترک ساختہ ڈرون کی کارکردگی دیکھتے ہوئے مسلح گروہوں سے لڑنے کے لیے ترک ڈرونز کو تیزی سے حاصل کر رہی ہیں۔
یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں میں جب مغربی ممالک کی جانب سے توپ خانے اور راکٹ لانچروں کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی تو ایک ہتھیار تھا جسے یوکرین کی حکومت پہلے ہی استعمال کر رہی تھی اور وہ ترکی میں بنایا جانے والے بیراکتر ٹی بی 2 ڈرون تھا۔
ترکی کے تیار کردہ اس ہتھیار نے آذربائیجان کو آرمینیائی بکتر بند افواج کو شکست دینے اور 2020 کی ناگورنو قرہباخ جنگ میں وسیع علاقہ واپس چھیننے میں مدد کرتے ہوئے اپنی افادیت ثابت کر دی تھی۔
لیکن ڈرون کی صلاحیتوں کے مداح صرف ان ہی ممالک تک محدود نہیں ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں مغربی افریقہ کی ریاست ٹوگو کو ’بیراکتر ٹی بی 2‘ کی کھیپ پہنچائی گئی ہے جو برکینا فاسو سے جنوب کی طرف جانے والے جہادی جنگجوؤں کی دراندازی کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے۔
جبکہ مئی میں نائجر نے باغی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے ان انتہائی مؤثر اور سستے ڈرونز میں سے نصف درجن حاصل کیے تھے۔
دیگر افریقی صارفین میں ایتھوپیا، مراکش اور تیونس شامل ہیں جبکہ انگولا نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن براعظم میں ان طاقتور نگرانی اور حملے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کا سب سے پہلے استعمال لیبیا میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت تھی۔
سنہ 2019 کے اوائل میں لیبیا میں یہ ڈرون دیکھے گئے اور ممکن ہے کہ طرابلس کی افواج نے مشرقی باغیوں کو روکنے کے لیے بھی انھیں استعمال کیا ہو۔
افریقی خریداروں اور خصوصاً غریب ممالک ڈرون خرید کر فضائی قوت حاصل کر سکتے ہیں اور اب انھیں فضائی قوت حاصل کرنے کے کے لیے روایتی جدید جنگی طیارے ان کے فاضل پرزوں اور دیگر ضروری ساز و سامان کے علاوہ ان طیاروں کی دیکھ بھال کے عملے اور ان کو اڑانے کے لیے ہوا بازوں کی تربیت پر بے شمار پیسہ اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
نائجر اور ٹوگو جیسی ریاستوں کے لیے یہ ایک خاص کشش ہے۔
نائجر اور ٹوگو کو عسکریت پسندوں کے انتہائی پر عزم اور متحرک جتھوں کا سامنا ہے جو جھاڑیوں میں خیمہ زن ہوتے ہیں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے ساحل کے خار دار علاقوں میں تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دور دراز علاقوں میں تعینات فوجیوں اور پولیس چوکیوں، سرحدی گزرگاہوں اور شہری آبادیوں پر گھات لگا کر اچانک حملہ آور ہو جاتے ہیں۔
نائجر کی فوج برسوں سے اس مسئلے سے نبرد آزما ہے اور سہ ملکی سرحدی علاقے میں عسکریت پسندوں سے لڑ رہی ہے جہاں ملک کے دارالحکومت نیامے سے چند گھنٹوں کی مسافت پر برکینا فاسو اور مالی سے ملتا ہے۔
سرکاری فوجی عسکریت پسند تنظیموں بوکو حرام اور دولتِ اسلامیہ مغربی افریقہ کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مشکل مہم میں بھی مصروف ہیں۔
لیکن ٹوگو کے لیے جہادی خطرے کی براہ راست حقیقت نسبتاً ایک نیا اور انتہائی تشویشناک تجربہ ہے۔
گذشتہ ایک دہائی کے دوران عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں وسطی ساحل یعنی مالی، برکینا فاسو اور نائجر تک محدود رہیں اور بنیادی طور پر ان علاقوں میں جو آئیوری کوسٹ، گھانا، ٹوگو اور بنین جیسے ساحلی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں سے نسبتاً دور تھے۔
لیکن حال ہی میں یہ منظر تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ مسلح گروہوں نے برکینا فاسو کے بیشتر علاقوں اور ان چاروں ریاستوں کی سرحد کے ساتھ دیہی علاقوں میں اپنی رسائی بڑھا دی ہے۔
سنہ 2019 کے اواخر تک سکیورٹی فورسز شمالی ٹوگو میں عسکریت پسندوں کی دراندازی کے آثار کا پتہ لگا رہی تھیں۔
ابتدائی طور پر جنگجو صرف آرام اور علاج کے لیے ان علاقوں میں چھپتے تھے لیکن لومے میں حکومت کو بھی ساحلی مغربی افریقہ میں اپنے ہم منصبوں کی طرح پہلے ہی تشویش تھی کہ خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پڑوسی ملک آئیوری کوسٹ کو 2016 میں گرینڈ باسم کے سیاحتی مرکز پر جہادی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے اور پھر 2020 میں شمال مشرق میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ حملے اور جھڑپیں ہوئیں۔
ایک مقامی وائلڈ لائف گائیڈ اس وقت ہلاک ہو گیا جب عسکریت پسندوں نے بینن کے پنڈجاری نیشنل پارک میں دو فرانسیسی سیاحوں کو اغوا کر لیا۔ بعد ازاں برکینا فاسو میں سیاحوں کو بچانے کی کوشش کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو فرانسیسی فوجی ہلاک ہو گئے۔
سانلونگہ میں خود ٹوگو پر پہلا براہ راست چھاپہ گذشتہ نومبر میں کیا گیا۔ اس کے بعد 11 مئی کو صبح ہونے سے پہلے برکینا فاسو کے قریب کیپیک پکنڈی میں درجنوں عسکریت پسندوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں آٹھ فوجی ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں کچھ حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔ اگلے ماہ حکومت نے ٹوگو کے شمالی علاقے ساونس میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔
لیکن یہ ان جہادیوں کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے جو اب سرحدی علاقے میں سرگرم ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مالی میں قائم اسلام پسند مسلح گروہوں کے اہم اتحاد جماعت نصرت الاسلام وا المسلمین سے وابستہ ہیں۔ جولائی میں ایک اور واقعے میں دو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
صدر فیور گناسنگبے نے حوصلے بلند کرنے کی کوشش میں علاقے کا دورہ کیا ہے۔ لیکن کچھ بری طرح لرزتے ہوئے مقامی لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔
عسکریت پسندوں کے خوف سے دیگر علاقوں میں بھی مقامی لوگوں نقل مکانی کر چکے تھے۔
کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض حکومت نے عسکریت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متحدہ قومی حکمت عملی تیار کرنے کے بارے میں بات چیت کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کرنے کی ضرورت بھی محسوس کی ہے۔
تاہم بالآخر براہ راست فوجی طاقت کا استعمال کرنا ہو گا۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ترک ڈرون کی ضرورت پڑے گی اور ڈرون نائجر کی طرح ٹوگو کو بھی اپنی قومی فضائی نگرانی کی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں تاکہ عسکریت پسند جنگجوؤں کے مسلح جتھوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا سکے اور ممکنہ طور پر ان کے خلاف حملے کیے جا سکیں۔
ساحلوں کی حفاظت کے لیے ڈرون کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فرانس اور امریکہ دونوں کے نائجر میں ڈرون اڈے ہیں جو حکومت کی سلامتی کی حکمت عملی کی حمایت میں کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایتھوپیا جیسی بڑی طاقتوں کے لیے جہاں وفاقی حکومت ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ سے لڑ رہی ہے، ڈرون مجموعی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار ہیں۔
تاہم اس کے خطرات اپنی جگہ ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان بردار طیاروں کے ساتھ۔ جنوری تک امدادی کارکن یہ اطلاع دے رہے تھے کہ ایتھوپیا کے ٹیگرے تنازعہ میں ڈرون سے 300 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل تونگولی کی فوج نے غلطی سے سات نوجوان شہریوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
جہادیوں کی ظاہری دراندازی کے بارے میں خوف و ہراس کے لمحات میں اس طرح کی افسوس ناک غلطیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ٹوگو اور نائجر دونوں کے لیے ترکی کے ساتھ سپلائی شراکت داری بھی سیاسی طور پر مفید ہے جس سے سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کے ساتھ قریبی سلامتی شراکت داری پر ان کا انحصار کم ہو گیا ہے جس کے بارے میں عوامی رائے عامہ ایک حصہ خوش نہیں ہے۔
انقرہ کے نقطہ نظر سے یہ 'ڈرون ڈپلومیسی' اور فوجی شراکت داری بڑھانے کا بھی موقع ہے۔ صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے لیے صحارا کے جنوب میں خارجہ تعلقات بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے جو ہوائی اڈوں کی تعمیر اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے جیسے منصوبوں کے حصول میں مدد کر سکتا ہے۔
ترکی کی سیاسی و کاروباری اشرافیہ کے درمیان بھی ایک ذاتی تعلق ہے۔
بیراکتر ٹی بی 2 ڈرون بنانے والی کمپنی بائیکر کی سربراہی دو بھائی کر رہے ہیں- چیف ایگزیکٹو حلوک بیراکتر اور ان کے بھائی سیلکوک، چیف ٹیکنالوجی آفیسر، جن کی شادی صدر اردوگان کی بیٹی سے ہوئی ہے۔