میانمار: ویزا قوانین کی خلاف ورزی کا الزام، برطانیہ کی سابق سفیر شوہر سمیت گرفتار

میانمار

،تصویر کا ذریعہInstitute for Human Rights and Business

میانمار کے فوجی حکام نے میانمار میں برطانیہ کی سابق سفیر وکی بومین اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور ان کے شوہر پر میانمار میں رہنے میں ان کی مدد کرنے کا الزام ہے۔

ان الزامات پر پانچ برس تک کی قید ہو سکتی ہے۔

وکی بومین سنہ 2002 سے سنہ 2006 تک میانمار میں تعینات رہیں۔ اُن کے شوہر ایک برمی فنکار اور سابق سیاسی قیدی ہتین لِن ہیں۔

وہ دارالحکومت ینگون میں میانمار سینٹر فار ریسپونسیبل بزنس (ایم سی آر بی) چلاتی ہیں۔

اُنھیں دارالحکومت کے اِنسین جیل بھیج دیا گیا ہے اور چھ ستمبر کو ان کا ٹرائل شروع ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ اُنھیں قونصل خانے کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

ایم سی آر بی کے مطابق وہ ملک بھر میں 'ذمہ دارانہ کاروباری سرگرمیوں' کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انسٹیٹیوٹ فار ہیومن رائٹس اینڈ بزنس (آئی ایچ آر بی) کا شراکت دار بھی ہے جس کا مقصد 'انسانی حقوق کی تکریم کو روز مرّہ کے کاروبار کا حصہ بنانا ہے۔'

میانمار کی فوجی حکومت پر وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

رواں ماہ کے اوایل میں جرنیلوں نے اپنی ہنگامی حکومت کو سنہ 2023 تک توسیع دے دی تھی۔

فوجی حکومت نے گذشتہ برس جمہوری طور پر منتخب حکمران آنگ سانگ سوچی کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار سنبھال لیا تھا۔