چین میں گرمی کی لہر: سیچوان کے رہائشی شدید گرمی سے بچنے کے لیے زیرِ زمین بنکروں کا رخ کر رہے ہیں

    • مصنف, ملیسا زو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

چین کے جنوب مغربی صوبوں کے رہائشی ریکارڈ گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کر رہے ہیں۔ یہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔

انھی اقدامات میں سے ایک یہ ہے کہ چونگ کنگ اور پڑوسی شہر سیچوان میں رہنے والے لوگ گرمی سے بچنے کے لیے زیر زمین بنکروں اور غاروں کی طرح بنے ہوئے ریستورانوں کا رخ کر رہے ہیں۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ گرمی کی لہر کی شدت عالمی تاریخ میں ریکارڈ کی جانے والی بدترین لہروں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ طویل گرمی کی لہر کی وجہ سے چین میں شدید قسم کی خشک سالی ہے۔

کچھ صوبوں کے ٹرین سٹیشنوں نے بجلی کی بچت کے لیے اپنی روشنیوں کو مدھم کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں چونگ کنگ میں لوگ تاریک ریل کی بوگیوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں یا پھر اندھیری گلیوں میں چل رہے ہیں۔

یہ سب مناظر بہت عجیب اور خوفناک دکھائی دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بجلی کے تحفظ کے لیے، سچوان میں سرکاری دفاتر سے مبینہ طور پر ایئر کنڈیشنگ کی سطح کو 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کو کہا گیا، جب کہ چونگ کنگ کے حکام نے صنعتی یونٹوں کو کم از کم جمعرات تک پیداوار کو محدود کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کچھ کمپنیوں نے اپنے دفاتر میں برف کے بڑے بلاکس رکھیں ہیں تاکہ درجہ حرارت کم رہے۔

دفتروں کے باہر بھی لوگ گرمی سے بچنے کے لیے زیر زمین جگہوں پر جا رہے ہیں۔

’کیو (غار) ہاٹ پاٹ‘ ریستورانوں میں لوگ اکثر گرمی کے مہینوں میں جایا کرتے ہیں، کیونکہ زیر زمین درجہ حرارت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ لیکن اب ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے چائنا ڈیلی نے ہفتے کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایک کیو ہاٹ پاٹ ریستوراں میں درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جبکہ باہر کا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

دوسرے زیر زمین سرنگوں میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں، چٹائیاں بچھا رہے ہیں یا شہتیروں کے ساتھ جھولے لٹکا رہے ہیں۔

گرمی کی لہر اور اس کے نتیجے میں خشک سالی کی وجہ سے فصلیں اور دوسری زرعی اجناس خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

ایک وائرل ویڈیو میں سچوان میں مرغیاں پالنے والے ایک کسان کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ گرم دن میں بجلی کی بندش کی وجہ سے اس کی تمام مرغیاں راتوں رات مر گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن ملک میں پانی سے سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے صوبے سیچوان کے کچھ حصوں کو جمعرات کو اس وقت کچھ راحت ملی جب رات بھر تیز بارش ہوئی، اگرچہ ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق طوفان کی وجہ سے 30 ہزار افراد کو وہاں سے نکالنا پڑا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق علاقے کے ساتھ ساتھ تجارتی مرکز شنگھائی کے آس پاس کے صوبوں میں کم از کم اگلے تین دن تک گرم موسم جاری رہنے کی توقع ہے۔

لیکن صرف سیچوان ہی نہیں متاثر ہوا ہے۔ کم بارشوں کی وجہ سے چین کے دریائے یانگسی میں کم پانی بہہ رہا ہے اور اس لیے خاص طور پر تھری گورجز ڈیم میں پانی کی سطح گر گئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں چین کے مختلف شہروں بشمول شنگھائی کے مالیاتی مرکز میں توانائی کم ہو گئی ہے۔

کیا تھری گورجز ڈیم نے ناقدین کو درست ثابت کیا ہے؟

سٹیفن مکڈونل، بی بی سی کے چین کے نامہ نگار

تھری گورجز ڈیم اپنے ڈیزائن کے مرحلے ہی سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔

اس کے حامیوں کے مطابق، انتہائی وسیع ڈیم انجینئرنگ کا معجزہ ہے جو بڑی مقدار میں بجلی فراہم کرتا ہے اور طاقتور دریائے یانگسی کے سیلاب پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

لیکن اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ ڈیم کی وجہ سے قدیم قصبے زیرِ آب آ گئے ہیں، اور لاکھوں لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی ضرورت پڑی۔ وہ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ ڈیم کئی مچھلیوں اور دیگر جانوروں کی سپیشیز کو ختم کرنے کا ذمہ دار بھی ہے، جن میں دریائے یانگسی کی ڈولفنز اور سٹرجنز بھی شامل ہیں۔

اب، اس بڑی خشک سالی میں، جس میں دریا کی سطح اتنی خطرناک حد تک گر گئی ہے کہ یہ سچوان صوبے میں معیشت اور صنعتی ترقی کے لیے درکار پن بجلی بھی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے جو چینگڈو اور چونگ کنگ جیسے اندرونی شہروں کے لیے بہت اہم ہے۔

واضح طور پر ایک خشک سالی سے، اگرچہ یہ بہت بڑے پیمانے پر ہے، تھری گورجز ڈیم ختم نہیں ہو گا لیکن موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مستقبل میں بہت زیادہ تباہ کن موسمی واقعات پیش آنے کا امکان ہے۔ حکام یقیناً اس خطے کے لیے بجلی پیدا کرنے کے دیگر طریقوں پر غور کر رہے ہوں گے۔

لیکن دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ حالیہ ہفتوں میں طویل عرصے تک پانی کے نیچے چھپے ہوئے بدھ مت کے تاریخی آثارِ قدیمہ، دوبارہ نمودار ہو گئے ہیں۔