کیا گرمی اور پرتشدد واقعات میں کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, زاریہ گرووٹ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

یہ جولائی سنہ 1988 کی بات ہے۔ امریکہ میں تاریخ کی سب سے زیادہ گرمی پڑی تھی۔ شہروں سے لوگ ساحلِ سمندر کو دوڑے، ائر کنڈیشنوں کی وجہ سے بجلی کا استعمال بہت بڑھ گیا اور بڑی بڑی شاہراہوں پر جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں کے انجن جواب دے گئے۔ آئس کریم کھانے سے پہلے ہی پگھل جاتی تھی مگر اس سب کے دوران ایک اور چیز بھی ہو رہی تھی۔

سنہ 1988 نہ صرف گرمی کے لحاظ سے ریکارڈ توڑ سال تھا بلکہ پرتشدد واقعات میں بھی ایک نئے ریکارڈ بننے کا سال ثابت ہوا۔

اس سال قتل، ریپ، ڈاکوں اور حملوں کی بہت زیادہ وارداتیں ہوئی جو تقریباً ساڑھے پندرہ لاکھ سے زیادہ تھیں۔

کیا گرمی اور پرتشدد واقعات میں کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟

کئی صدیوں سے لوگوں کا خیال ہے کہ موسم ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کا اثر ہماری زبان میں بھی چھپا ہوا ہے: ‘طیش میں آ جانا‘، ‘سرد مہری‘، ‘خون کھولنا‘ وغیرہ وغیرہ۔

گرمیوں میں جرائم میں اضافہ

اس تعلق کے بارے میں سب سے پہلی تحقیق 19ویں صدی کے اواخر میں سامنے آئی تھی جب جرائم کے حوالے سے قابلِ اعتماد اعداد و شمار موجود تھے۔

ایک تجزیے کے مطابق گرمیوں میں لوگوں پر حملے کیے جانے جبکہ سردیوں میں لوگوں کی پراپرٹی کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

اس کے بعد سے اس تعلق کے شواہد میں اضافہ ہوا ہے۔

ہر سال جوں جوں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ہم ایک اجتماعی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔ کچھ اشارے معمولی ہوتے ہیں، جیسے کہ ٹریفک میں پھنسے لوگوں کے ہارن بجانے کا امکان بڑھ جاتا ہے یا پھر ہمارا اجنبیوں کی مدد کرنے کا امکان کم ہو جاتا ہے لیکن کچھ معاملات زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

سنہ 2018 میں گرمی کی لہر

سنہ 2018 میں گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت سے علاقوں میں قحط آیا اور قطبِ شمالی میں جنگلی آگ کے غیر معمولی طور پر زیادہ واقعات ہوئے۔

فن لینڈ میں قطبی ہرن (ریئن ڈیر) ساحلِ سمندر تک پہنچ گئے۔ انسانی رویوں میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ برطانیہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 999 پر ایمرجنسی کالیں بہت بڑھ گئیں اور کچھ علاقوں میں تو ان میں 40 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا۔

ظاہر ہے یہ کوئی سائنسی تحقیق نہیں اور ہر واقعے کی ایک علیحدہ علحیدہ وجہ بھی بتائی جا سکتی ہے مگر بڑے پیمانے پر موسم اور رویہ ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

گرمیوں میں قتل کے واقعات

برطانیہ میں اپریل سنہ 2010 سے لے کر سنہ 2018 کے درمیان 10 سیلیس ڈگری کے مقابلے میں 20 سیکیس ڈگری میں پرتشدد جرائم میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

میکسیکو میں موسمِ گرما میں پیشہ وارانہ جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ موسم آپ میں پرتشدد واقعات کی خواہش پیدا کر دیتا ہے۔

جنوبی افریقہ میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ ہر ڈگری درجہِ حرارت بڑھنے سے قتل کے واقعات میں ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

یونان میں تحقیق سے پتا چلا کہ ایک مخصوص خطے میں ہونے والے 137 قتل کے واقعات میں سے ایک تہائی ان دنوں میں ہوئے جبکہ درجہ حرارت 25 سیلسیس ڈگری سے اوپر تھا۔

ایسے ہی رجحانات افریقہ، تائیوان، امریکہ، فن لینڈ اور سپین میں پائے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر سینکڑوں تحقیقات سے یہی نتیجہ سامنے آیا ہے۔

اور پھر سوال ہے احتجاجی مظاہروں کا۔ ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے احتجاجی مظاہروں کا 1791 سے 1880 تک کا جائزہ لیا تو معلوم پڑا کہ ان میں سے اکثر گرمیوں میں ہوتے ہیں۔ سپین میں یہ جولائی میں ہوتے ہیں اور جنوبی امریکہ میں یہ جنوری میں۔

اس کے علاوہ بھی مزید تحقیقات میں سماجی تحریکوں اور موسم کے تعلق کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

36 برسوں میں سات ہزار سے زیادہ واقعات کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا رجحان زیادہ صاف ہونے والے دنوں میں ہوتا ہے اور درجہ حرارت بڑھتے ہی ان کے پرتشدد ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ قصے کہانیوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کہنا مناسب ہے۔

پچھلے موسم گرما میں اس کے سب سے زیادہ گرم ہفتے کے بعد ہالینڈ میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ جب سے اُس قوم نے ریکارڈ رکھنا شروع کیا یہ اس طرح کے پہلے ہنگامے تھے۔ ایک عمارت کو آگ لگا دی گئی، پولیس افسران پر گولیاں چلائی گئیں اور پھر 27 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اگرچہ یہ واضح ہے کہ معاشرتی بدامنی کے لیے ناانصافی اور دیگر محرکات سارا سال رونما ہوسکتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ گرمی پڑنے سے بد امنی پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

برطانیہ کی ڈنڈی یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر ٹریور ہارلی کا کہنا ہے کہ ’یہاں ایک انتباہ ہے۔ گرمی اور فسادات جیسی چیزوں کے مابین تعلقات حرف (U) جیسی شکل کے ہوتے ہیں۔ لہذا جب یہ گرم یا گرم مرطوب ہوجاتا ہے تو لوگ کچھ بھی نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ موسم انھیں بے چین کرتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خودکشیوں کا خطرہ

بہرحال باہر کے حالات خود کو نقصان پہنچانے کی تحریک بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ 12 ممالک میں خود کشیوں کے تیرہ لاکھ بیس ہزار سے زیادہ واقعات کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت کا خودکشی کے واقعات سے ایک تعلق بنتا ہے اور یہ تعلق مغربی ممالک اور جنوبی افریقہ میں خاص طور پر براہ راست بنتا تھا۔

مجموعی طور پر سب سے زیادہ خطرہ اس وقت ہوا جب درجہ حرارت 27 سیلسیس ڈگری تک پہنچ گیا۔ آسٹریلیا کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس درجہ حرارت کے آس پاس کے موسم کے دوران ہسپتالوں میں داخلوں میں اضافے کا رجحان ہے، لُو یعنی ہیٹ ویوز کے دوران 7.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔

موسم ہمارے طرز عمل پر اتنی طاقت کیوں رکھتا ہے یہ ایک مکمل معمہ ہے لیکن جیسے جیسے دنیا گرمی کا شکار ہو رہی ہے، سائنسدان کچھ جواب تلاش کرنے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔

غیر آرام دہ

سب سے زیادہ واضح امکانات میں سے ایک یہ ہے کہ گرم، تیز موسم غیر آرام دہ ہے، جو ہمیں اجتماعی طور پر بدمزاج بنا دیتا ہے اور نقصان دہ رویے کا سبب بنتا ہے۔

اس کے بہت سارے ثبوت موجود ہیں کہ اس کا پہلا حصہ درست ہے۔ زیادہ درجہ حرارت ہمیں زیادہ چڑچڑا بناتا ہے اور طبیعت پر ایک دباؤ ڈالتا ہے اور ہماری خوشی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

گرم موسم میں امریکی نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) میں پیشہ وارانہ فٹ بال کھلاڑیوں پر جارحانہ ایکشن کی وجہ سے بھاری جرمانے عائد ہونے کا امکان زیادہ دیکھا گیا ہے۔ صحافی اپنی رپورٹنگ میں منفی زبان استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور لوگ زیادہ ہڑتال کرنے اور نوکری چھوڑنے کا امکان رکھتے ہیں۔

ایک محقق نے اس رویے کو اِن سخت الفاظ میں بیان کیا: اوسطاً، لوگ 32 سیلسیس ڈگری کے مقابلے میں 21 سیلسیس ڈگری کے دنوں میں ان کی احساست میں زیادہ فرق محسوس ہوتا ہے یہ اسی طرح کا موازنہ ہوتا ہے جیسا کہ بیوہ یا طلاق یافتہ اور شادی شدہ افراد کے درمیان احساست کے فرق کے درمیان بنتا ہے۔

اس خیال کا مزید انکشاف اس دریافت سے ہوا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ موسم ہماری حیاتیات میں ردوبدل کرکے ہمارے دماغوں پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

سنہ 2017 میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ فن لینڈ میں ماحولی درجہ حرارت سیرٹونن کی مقدار سے متصل ہے۔ یہ دماغ کا ایک اہم کیمیکل ہے جو اضطراب، خوشی اور مجموعی مزاج کو کنٹرول کرتا ہے، یہ صحت مند رضاکاروں اور پرتشدد مجرموں کے خون میں گردش کرتا ہے۔

ماہرین نے خاص طور پر ان اعدادوشمار اور ماہانہ پرتشدد جرائم کی شرح کے درمیان ایک مضبوط تعلق بھی نوٹ کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گرمی ہمارے سیرٹونن کی سطحوں کو بدل دیتی ہے، جو بدلے میں ہماری جارحیت کی سطح کو متاثر کرتی ہے۔

ایک اور خیال یہ ہے کہ گرم موسم ہمارے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو ہمیں مزید جارحانہ بناتا ہے۔ یہ حقیقت جس کی جزوی طور پر یہ وضاحت بھی کی جاسکتی ہے کہ، جیسے جیسے دن لمبے ہونے لگتے ہیں، جنسی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں موسم گرما میں جسمانی، جنسی، اور جذباتی زیادتی بھی ایسے رویوں میں شامل کی جاتی ہے، جس کا شکار ہونے والوں میں بارہ فیصد وہ ساتھی ہوتے ہیں جو جارح لوگوں کے بہت قریب ہوتے ہیں۔

تاہم متبادل وضاحتوں کی بھی کافی تعداد موجود ہے۔ ایک اہم غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر مطالعات باہمی ربط پر مبنی ہیں، وہ ایک عنصر، جو درجہ حرارت کو دوسرے جرم سے جوڑتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضروری ہو کہ ایک عنصر براہ راست دوسرے کو متاثر کرتا ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو ہم ایک بہت ہی مختلف دنیا میں رہتے ہیں۔ رش والے تہواروں میں جشن منانا، معاشرتی طور پر قابل قبول دن کے وقت شراب نوشی کرنا، اور عام طور پر زیادہ سرگرم رہنے کا بھی موسم سے تعلق ہے۔

موسم گرما کی سرگرمیاں

کیا موسمِ گرما کی یہ سرگرمیاں، جو ہمیں دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطے میں لاتی ہیں اور ہمارے جذبات کو تیز کرتی ہیں، ہمارے لُو سے متاثرہ رویے کے پیچھے اصل محرک ہوسکتی ہیں؟

ہارلی کا کہنا ہے کہ ’ان چیزوں کو ختم کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔‘

’اگر آپ خودکشی کی شرح لیتے ہیں تو وہ گرمی کے وقت بڑھتی ہے اور خودکشی کے ذرائع زیادہ دستیاب ہوتے ہیں کیونکہ لوگ باہر ہوتے ہیں لیکن وہ دنیا بھر میں انتہائی متغیر ہیں۔ روس میں خود کشی کی ایک زیادہ سطح ہے اور شاید اس کا تعلق وہاں شراب نوشی کی زیادہ مقدار سے ہے، نہ کہ گرمی کے موسم سے۔‘

گرم مستقبل

اس سوال کے کچھ جواب کووڈ -19 وبائی مرض بھی مہیا کرسکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ حال ہی میں پیدا ہوا ہے، اس لیے موسم گرما سے جڑی ہماری معمول کی سرگرمیاں ناممکن ہو گئی ہیں۔

وبائی مرض پہلے ہی متعدد ضروری سوالات کے لیے ایک فطری تجربہ ثابت ہوچکا ہے، جیسے لمبی دوری کا سفر جب ڈرامائی طور پر کم ہو جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے یا جب سمندروں میں شور بہت کم ہو جاتا ہے تو وہیل کس طرح کا رویہ اپناتی ہے؟

لہٰذا کون جانتا ہے کہ اس سے شاید یہ پتہ چل جائے کہ آیا تشدد کا موسمِ گرما سے واقعی کوئی تعلق بنتا ہے یا اس کا تعلق صرف گرمی سے ہے۔

اس سے قطع نظر کہ موسم اور ہمارے طرزِ عمل کے درمیان کیا تعلق ہے، اس کے مستقبل کے لیے کچھ بے چین مضمرات ہیں۔

سائن دانوں نے پیشنگوئی کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی اوسط درجہ حرارت میں محض 2 سیلسیس اضافہ ہی مغربی یورپ جیسے خطوں میں پرتشدد جرائم کی شرح میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ کر سکتا ہے۔

اس وقت بہت سارے ماہرین کا خیال ہے کہ چاہے ہم آب و ہوا کے کنٹرول کے متعلق موجودہ تمام وعدوں کو بھی پورا کرلیں۔ تب بھی ہم درجہ حرارت میں 3 سیلسیس ڈگری سے زیادہ اضافے کے راستے پر گامزن ہیں۔

اگرچہ موسم ہم پر اثر انداز کیوں ہوتا ہے یہ بات تاحال ایک معمہ بنی ہوئی ہے لیکن اس کے تعلق کے بارے میں آگاہی کی وجہ سے شاید ہم خود کو بہتر طور پر تیار کر لیں کہ کیا ہو رہا ہے۔